واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا ہوائی جہاز میں نماز پڑھنا جائز ہے؟

نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-08-19 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: نماز مشاہدات: 14

جواب

ہوائی جہاز میں بھی نماز پڑھنا جائز ہے اس سے ائرپورٹ سے پہلے اترنا نہ صرف مشکل ہے بلکہ ناممکن بھی ہے۔ "ناممکن" فلائیٹ لینڈنگ کے اصول کے مطابق ہے۔ اورائر پورٹ کے علاوہ اس کی لینڈنگ ہوتی ہی نہیں ہے۔ تو نماز کا وقت آنے پر اس میں ہی نماز پڑھنا درست ہے۔اور جہاز میں بھی نماز پڑھنے کا طریقہ بس اور ٹرین کی مثل ہی ہے کہ سیٹ پر بیٹھ کر ہی اشاروں سے پڑھے۔
ضروری وضاحت۱:
جب یہ کہا جاتا ہے کہ بس، ٹرین یا جہاز وغیرہ میں نماز کی ادائیگی جائز
ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر فرض نماز کا وقت داخل ہوتا ہے تو پڑھنا صرف جائز ہے کہ پڑھے یا نہ پڑھے دونوں برابر ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں نماز کی ادائیگی درست ہے۔ کہ ان میں پڑھی ہوئی نماز مقبول ہوگی۔ کہ جیسے مسجد کے علاوہ گھر، دوکان یا کسی اور مقام پر پڑھنا جائز ہوتا ہے ایسے ہی ان میں جائز ہے۔ کہ نماز پڑھنا تو فرض ہی ہے یہ جواز کا فتویٰ درجۂ حکم کےلیے نہیں بلکہ مقام کےلیے ہے۔ اور ایسے ہی اگر جیل میں ہے اور نماز کا وقت ہوگیا تو جیل میں پڑھنا درست ہے کہ وہاں پڑھی ہوئی نماز مقبول ہے۔ لیکن وہاں سے نکل نہیں سکتا تو اس کےلیے وہاں پڑھنا ہی فرض ہے کہ اگر وہاں نہیں پڑھتا اور مسجد جانے کے بہانے وقت گزار دیتا ہے تو گناہگار ہوگا۔ ایسے ہی گھر میں ہے تو گھر میں فرض ہے، دکان، مارکیٹ، کھیت، سفر جہاں بھی ہو وہاں فرض ہے۔ تو ایسے ہی گاڑی، کشتی اور جہاز میں نماز تو فرض ہی ہے کہ اگر نماز نہیں پڑھتا تو گناہگار ہے۔ کہ جیسے اگر کوئی چھت یا تخت پر بیٹھا تو اس کےلیے چھت اور تخت پر ہی نماز پڑھنا جائز ہے۔ اب جواز کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اگر تخت یا چھت پر ہی بیٹھا رہا اور نماز کا وقت گزر گیا مگر ا س نے نماز نہ پڑھی تو گناہگار نہیں کہ اس نے تو صرف جائز کام چھوڑا ہے۔ بلکہ گناہگار ہے فرض چھوڑنے پر اور جواز تو اس کی نماز کی صحت کا تھا۔
نتیجہ یہ ہے کہ جہاں بھی ہو اور وہاں نماز پڑھنا درست اور جائز بھی ہو تو اس کےلیے وہاں نماز فرض ہے۔
ضروری وضاحت۲:
یہاں پر ایک وضاحت ضروری ہے کہ بس، ٹرین، کشتی وغیرہ میں
نماز پڑھنے کی جو بحث کی گئی ہے۔ اس میں جہاں پر ضرورت اور مجبوری ومشکل کو بناء بنایا جاتا وہ فرض نمازوں میں ہے، کسی ذہن میں یہ خیال نہ آئے کہ مجبوری اور تنگی وغیرہ صورتوں میں تو صرف نفلی نماز کی اجازت ہے۔کیونکہ نفل نماز تو بغیر تنگی اور مجبوری کے پڑھنا بھی جائز ہے، چاہے کھڑے ہو کر یا بیٹھ، اشارے سے یا رکوع وسجدہ سے، ہر صورت جائز ہے۔ جب ایسا ہے تو ضرورت، مجبوری اور تنگی یانقصان اور خوف وخطر وغیرہ کی قیود نفل کےلیے نہیں ہیں۔

اصل سوال

کیا ہوائی جہاز میں نماز پڑھنا جائز ہے؟

مزید فتاویٰ جات

اگر کسی نے گھڑی یا کیلنڈر کے مطابق نماز پڑھی، پھر معلوم ہوا کہ نماز کا وقت داخل نہیں ہو... کیا ایسے علاقوں میں، جہاں تقریباً چھ ماہ دن یا رات رہتی ہو، ایک دن میں پانچوں نمازیں فر... کیا ایسے علاقے میں، جہاں بعض نمازوں کا وقت ہی نہیں آتا، ان نمازوں کی فرضیت ساقط ہو جائے... تشہد (التحیات) پڑھنے کا طریقہ کیا ہے؟ کیا نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا سنت ہے؟