فتویٰ
کیا عبادات کے اوقات اور احکام معلوم کرنے کے لیے سائنسی آلات کا استعمال معتبر ہے؟
عمومی کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
اوقاتِ نماز اور سمتِ قبلہ کے تعیّن ، اذان و قرأت، رؤیت ہلال اور اس طرح کے دیگر شرعی امور کےلئے سائنسی آلات کا استعمال کرنا جائز اور معتبر ہے۔ یہ سب وہ کام ہیں کہ جن کا تعیّن تو شریعت نے کردیا ہے لیکن اس کی جانچ اور اظہار انسان کے ذمہ ہیں۔ کہ اوقات نماز اور سمت قبلہ متعیّن(کہ کسی بھی مہینہ، سال اور کسی بھی جگہ جب سایہ ایسے ایسے ہوتو فلاں فلاں نماز کا وقت ہے اور قبلہ خانہ کعبہ ہے یہاں تک تو شریعت کی طرف سے متعیّن) تو ہیں مگر اوقات ِ نمازاختلافِ ماہ و سال اور اختلافِ علاقہ کے ساتھ مختلف ہوتے رہتے ہیں اور سمتِ قبلہ بھی ہر ایک علاقہ میں مختلف ہے کہ وہاں کے لوگوں میں سے حکماء و علماء پر تعیّن کرنا منحصر ہے۔ اور اسی طرح سے رؤیتِ ہلال کی تاریخ مخصوص نہیں کہ کبھی ایک دن پہلے کبھی ایک دن بعد، تبدیلی رونما ہوتی رہتی ہے اور اسی طرح سے اذان کی آواز لوگوں تک پہنچانا اصل مقصد ہے چاہے آبادی کثیر ہو یا قلیل اور اسی طرح سے نماز میں قرأت کی آواز لوگوں تک پہنچانا ضروری ہے جماعت چھوٹی ہو یا بڑی۔ ان تمام معاملات کا تعین اور انجام دہی انسان پرعقل اور اعضاء و جوارح کی مدد سے لازم ہے۔ لہٰذا انسان اپنی عقل سے ہی آلات تیار کرتا ہے جن سے معاونت حاصل کرتا ہے اور اصل مقصود کو پالینے میں کامیاب بھی ہوجاتا ہے۔ کیونکہ یہ معاملات ظنّی ہیں کہ جنہیں ’’ظن‘‘ کے لحاظ سے ہی بجالانا ہے تو انسان اپنے ظن کی مدد سے آلات کا استعمال کرتا ہے جس سے ظن کو تقویت ملتی ہے تو اس طرح ان آلات کا استعمال نہ صرف جائز بلکہ مستحسن بھی ہے۔ اسی طرح سےمساجد میں سائنسی پنکھے، اے سی اور لائٹس وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے جو کہ نہ صرف جائز بلکہ مستحسن ہے۔
اصل سوال
کیا عبادات کے اوقات اور احکام معلوم کرنے کے لیے سائنسی آلات کا استعمال معتبر ہے؟