واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا استنجاء کے دوران کلمۂ طیبہ پڑھنا جائز ہے، اور کیا طہارت کے لیے کلمہ پڑھنا ضروری ہے؟

عمومی کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-24 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: عمومی مشاہدات: 2

سوال

کیا استنجاء کے دوران کلمۂ طیبہ پڑھنا جائز ہے، اور کیا طہارت کے لیے کلمہ پڑھنا ضروری ہے؟

جواب

عوام الناس میں سے بعض لوگ یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ کلمہ پڑھے بغیر طہارت کا حصول نہیں ہوسکتا، اس لیے وہ دوران طہارت کلمہ طیبہ پڑھنا شروع کردیتے ہیں حتیٰ کہ دوران استنجاء بھی کلمہ پڑھتے ہیں۔
اس حوالے سے پہلی بات تو یہ ہے کہ طہارتِ جسمانی اعضاءِ جسمانی کو دھونے اور غسل دینے سے حاصل ہوتی ہے۔ اس کےلیے اوراد و وظائف ضروری نہیں اور اگر فرائض طہارت میں کمی رہ گئی تو اسے اوراد و وظائف پورا بھی نہیں کریں گے۔ طہارت تو صرف نجاست کو زائل کرنا ہے کہ وہ نجاست حقیقی ہو یا حکمی۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ دوران استنجاء عام گفتگو سے منع کردیا گیا ہے چہ جائیکہ اللہ کا نام لیا جائے اور کلمہ طیبہ پڑھا جائے۔ ننگا ہونے اور ایسی حالت بد میں ہوتے وقت اللہ کا ذکر یا تلاوت قرآن یا کلمات طیبات کا ورد کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص دوران استنجاء کلمہ پڑھتا ہے تو بجائےثواب کمانے کے گناہ کا خریدار بنے گا۔

مزید فتاویٰ جات

سڑک پر کھڑے پانی کے چھینٹوں سے کیا کپڑے نا پاک ہو جائیں گے؟ سیوریج والے پانی کو فلٹریشن کرنے کے بعد کیا وہ پاک ہو جائے گا؟ کھڑے ہوئے پانی کا کیا حکم ہے؟ وضو کےلیے مساجد میں بنے حوض سے وضو کے احکام اگرحوض کا پانی ماء مستعمل ہوجائےتو کیا اسے ماء مطلق بنایا جاسکتاہے؟