واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا ضرورت کے پیشِ نظر جماعت کے بعد مسجد کو تالا لگانا جائز ہے؟

مسجد کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-08-13 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: مسجد مشاہدات: 15

جواب

مسجد عبادت گاہ ہے جس میں کوئی بھی کسی بھی وقت جاکر نماز پڑھ سکتا ہے۔ اسے منع کرنے کا کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا۔ اور حقیقت میں مسجد کہلاتی ہی وہ ہے جہاں ہر کس وناکس کو عام داخلے کی اجازت ہو۔ علامہ المرغینانی فرماتے ہیں:
واذا بنی مسجدا لم یزل ملکہ عنہ حتی یفرزہ عن ملکہ بطریقہ ویأذن للناس بالصلوۃ فیہ۔(۱)
ترجمہ: اور جب کسی نے مسجد بنائی تو اس سے اس وقت تک اس کی ملکیت ختم نہیں ہوگی جب تک کہ وہ اسے عام رستہ کھول کر اپنی ملکیت سے الگ نہیں کردیتا اور لوگوں کو اس میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دے دیتا۔
اور بعد میں فرماتے ہیں:
لان المسجد مالا یکون لاحد فیہ حق المنع۔ (۲)
ترجمہ: مسجد وہ ہے کہ جس میں کسی کو بھی منع کرنے کا حق نہ ہو۔
یہ عبارت تو بطور شاھد ایک کتاب سے مندرج کی گئی ہے لیکن یہی موقف تمام فقہاء کا ہے۔ واضح ہوا جب تک اجازت عامہ نہ ہو اس وقت تک مسجد نہیں ہوگی اور جب مسجد بن گئی تو کسی کو منع کرنا جائز نہ رہا۔ اور مساجد سے روکنے والے کو اللہ پسند نہیں کرتا ہے۔ بلکہ ایسے شخص کو ظالم قرار دیتا ہے اور نہ صرف ظالم بلکہ سب سے بڑا ظالم کہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ يُّذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ وَسَعٰى فِيْ خَرَابِهَا۔(۳)
ترجمہ: اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ کی مسجدوں میں اس کے نام کا ذکر کیے جانے سے روک دے اور انہیں ویران کرنے کی کوشش کرے۔
اس آیہ قرآنی اور عبارات فقہیہ سے ثابت ہوا کہ مسجد سے منع کرنا ممنوع ہے۔ یہ قاعدۂ کلیہ ہے۔ مگر یہ بھی ثابت ہے کہ مساجد کی حفاظت کےلیے دروازہ کا نصب کیا جانا بھی شروع سے ہی رائج ہے۔ اس کےلیے شاھد بیان کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ یہ تو تاریخ میں تواتر سے ثابت ہے۔ ایک دروازے کا نصب کیا جانا مسجد سے منع کرنے کی غرض سے نہیں ہوتا بلکہ مسجد اور اشیاء مسجد کی حفاظت کا اہتمام کرنا مقصود ہوتا ہے۔
ہمارے دور میں مساجد کو تالے لگادینے کا سلسہ عام ہے، کہ جیسے ہی نماز ادا کرلی جاتی ہے تو مسجد کو تالا لگا دیا جاتا ہے۔ اور اکثر یہ عمل طلوعِ آفتاب سے وقتِ ظہر تک اور بعد عشاء سے طلوع فجر تک کیا جاتا ہے۔ یا بعض جگہوں پر ظہر،عصر اور مغرب کی نمازوں کے بعد بھی تالا لگا دیاجاتا ہے مگر یہ قلیل ہے۔ تالا لگانے کا مقصد مسجد کی چیزوں کی حفاظت کرنا مقصود ہوتا ہے ناکہ نمازیوں کو منع کرنا مراد ہوتا ہے۔ اور بعض مساجد میں تو صحنِ مسجد کھلا رہتا ہے کمرۂ مسجد کو تالا لگادیا جاتا ہے کہ اگر کوئی نماز پڑھناچاہتا ہے تو وہ صحن میں پڑھ سکے۔ بنیادی طور پر لازمی تو یہی ہے کہ مسجد کو ہر لمحہ کھلا رکھنا چاہیے تاکہ کوئی شخص بھی کسی وقت میں فرض یا نفل نماز پڑھنا چاہتا ہے تو پڑھ سکے۔ اور مساجد میں جو قیمتی اشیاء استعمال کی جاتی ہیں وہ لوگوں کی آسانی کےلیے ہیں مسجد کی ضرورت نہیں ہیں اس لیے اگر لوگوں کی ضرورت کی اشیاء کے چوری ہونے کا خدشہ ہو تو مسجد کو تالا لگادینا درست نہیں۔ مگر آج کے دور میں وہ اشیاء جو کہ لوگوں کی آسانی کےلیے ہیں حقیقت میں مسجد کی ضرورت بھی بن گئی ہیں اس لیے اگر مسجد کو تالا اس کے سامان کی حفاظت کے لیے لگادیا جاتا ہے تو رخصت تو ہو جائے گی مگر پھر بھی درست یہی ہے کہ مسجد ہر وقت کھلی رہے۔ صاحب کنز فرماتے ہیں:
کرہ غلق باب المسجد۔ (۴)
ترجمہ: مسجد کو تالا لگادینا مکروہ ہے۔
اس کی تشریح میں ابن نجیم فرماتے ہیں:
قال فی الھدایۃ: وقیل لا بأس بہ اذا خیف علی متاع المسجد، وھو احسن من التقیید بزماننا کما فی عبارۃ بعضھم فالمدار خشیۃ الضرر علی المسجد۔ (۵)
ترجمہ: ہدایہ میں فرمایا: کہ یہ کہا گیا ہے کہ اس وقت تالا لگانے میں کوئی حرج نہیں ہوگا جب مسجد کے سامان(کے ضائع ہونے) کا خوف ہو۔ (ابن نجیم اپنی بات کرتے ہیں)اور اس میں ہمارے زمانے کی قید ہوجائے تو بہت اچھا ہے(یعنی ہمارے زمانے میں مساجد کے سامان کے ضیاع کا خوف مدنظر رکھتے ہوئے تالا لگانے کے جواز کا فتویٰ دیا جائے تو بہت اچھا ہے)جیسا کہ بعض فقہاء کی عبارات میں درج ہے، پس حکم کا مدار مسجد میں نقصان کا خوف ہے(کہ اگر نقصان کا خطرہ ہے تو تالا جائز ورنہ نہیں)۔
مذکورہ بالا عبارت میں صاحب کنز نے ہدایہ کا حوالہ دیا اور صاحب ہدایہ خود مسجد کے متولی کی بحث کرتے ہوئے کہتے ہیں:
لانہ یحتاج الی من یکنسہ ویغلق بابہ۔ (۶)
ترجمہ: اس لیے مسجد ایسے شخص کی محتاج ہے جو ا س کی صفائی کرے اور اس کا دروازہ بھی بند کرے۔
یہاں حفاظت کی خاطر دروازہ بند کرنا متولی کا مقصد بیان کیا ہے۔ اس مسئلہ کی وضاحت کےلیے البحر کے مذکورہ حوالہ کا تفصیل سے مطالعہ کریں مزید النھر الفائق(۷) اور تبیین الحقائق(۸) کاحاشیہ میں درج حوالہ پرمطالعہ کریں۔

حوالہ

۱ ۔ المرغینانی، الھدایۃ، کتاب الوقف، فصل فی وقف المسجد، ج: 2،ص: 621
۲۔ المرغینانی، الھدایۃ، کتاب الوقف، فصل فی وقف المسجد، ج: 2، ص:622
۳۔ البقرۃ 114/2
۴۔ نسفی، الکنز، کتاب الصلوۃ، فصل فی بعض احکام المسجد، ص:175
۵۔ ابن نجیم، البحر، کتاب الصلوۃ، فصل فی بعض احکام المسجد،ج: 2،ص:59
۶۔ المرغینانی، الھدایۃ، کتاب الوقف، فصل فی وقف المسجد، ج: 2، ص:623
۷۔ ابن نجیم۔سراج الدین، النھر الفائق، کتاب الصلوۃ، فصل فی بعض احکام المسجد، ج: 1،ص:288
۸۔ الزیلعی، تبیین، کتاب الصلوۃ، فصل فی بعض احکام المسجد، ج:1 ،ص:168

اصل سوال

کیا ضرورت کے پیشِ نظر جماعت کے بعد مسجد کو تالا لگانا جائز ہے؟

مزید فتاویٰ جات

کیا مسجد کی زینت و آرائش کرنا جائز ہے؟ کیا مسجد کی رقم فنائے مسجد پر خرچ کرنا اور مسجد کے لیے وقف شدہ زمین پر فنائے مسجد تعمیر... مسجد کی عمارت کے لیے مخصوص کی گئی زمین اور مسجد کے اثاثہ کے طور پر دی گئی زمین کے احکام... کیا مسجد میں نمازِ جنازہ یا دیگر ضروری معاشرتی مسائل کے اعلانات کرنا جائز ہے؟ کیا مسجد کی تعمیر اور اس کے اخراجات کے لیے چندہ وصول کرنا جائز ہے؟