بحری جہاز کشتی کے حکم میں ہی ہے، اور کشتی کے بارے فقہاء نے بڑی صراحت سے بیان کیا ہے کہ وہ حکمِ زمین میں ہے اس لیے چاہے کشتی رکی ہویا چل رہی ہو، کنارے کے قریب ہو یا دور، اترنا آسان اور ممکن ہو یا مشکل وناممکن جیسی صورت بھی ہو کشتی میں نماز پڑھنا جائز ہے کیونکہ کشتی زمین کے حکم میں ہے۔ اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک کشتی میں بیٹھ کر نماز پڑھنا بھی جائز ہے اگرچہ کھڑا ہونے اور نکلنے پر قادر بھی ہو۔ کیونکہ کشتی میں نماز پڑھنے کی اجازت ایسے ہی ہے جیسے زمین پر ہے، جب یہ عام اجازت ہوگئی تو دیکھا جائے گا کہ اگر وہاں پر کھڑے ہو کر پڑھتا ہے تو چکر آسکتے ہیں یا آنکھوں میں نیل اور سیاہی آنے لگے گی، تو اس ضرر کو دفع کرنے کےلیے بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے گی۔ کیونکہ جب زمین پر نماز پڑھنے میں ایسا کوئی عارضی لاحق ہوتا ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ اسے کہا جائے اس جگہ سے کسی اور جگہ منتقل ہوجائے، یا چھت ہی چڑھ جائے یا تخت پر کھڑا ہوجائے بلکہ زمیں پر ہی اس سے قیام ساقط کردیا جائے گا۔ جب کشتی کو زمین کے معنی میں کردیا تو زمین کے حکم بھی شامل ہے۔ صاحب المحیط فرماتے ہیں:
قال محمد واذ استطاع الرجل الخروج من السفینۃ للصلاۃ، فاحب لہ ان یخرج ویصلی علی الارض، وان صلی فیھا جاز۔ اما الجواز لحدیث ابن سیرین قال: صلینا مع انس ابن مالک رضی اللہ عنہ فی السفینۃ قعودا، ولو شئنا لخرجنا الی الحد۔ وقال مجاھد صلینا مع عبادۃ ابن امیۃ رضی اللہ عنہ قعودا فی السفینۃ، ولو شئنا لقمنا۔ ھکذا روی الامام الاجل شمس الائمۃ رحمہ اللہ، وعن مولی عبداللہ بن ابی عتبۃانہ قال: صحبت اناس فی السفینۃ من اصحاب رسول اللہﷺمنھم ابوالدرداء، وابوسعید الخدری، وجابر، وابوہریرۃ رضی اللہ عنہم، فحضرت الصلوۃ، فقدم امامھم، فصلوا فیھا، ولو شئنا لخرجنا الی الحد۔ ولان السفینۃ فی معنی الارض۔ (1)
ترجمہ: امام محمد علیہ الرحمہ نے فرمایا: اگر بندہ نماز کےلیے کشتی سے نکلنے کی طاقت رکھتا ہو تو اس کےلیے زیادہ پسندیدہ عمل یہ ہے کہ نکل کر زمین پر نماز پڑھے۔اور اگر اس میں ہی پڑھ لے تو جائز ہے۔یہ جواز ابن سیرین علیہ الرحمہ کی حدیث کی وجہ سے ہے وہ فرماتے ہیں: ہم نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ کشتی کے اندر بیٹھ کر نماز پڑھی اگر ہم چاہتے تو کنارے تک نکل سکتے تھے۔ اور مجاھد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: کہ ہم نے عبادۃ بن امیہ کے ساتھ کشتی میں بیٹھ کر نماز پڑھی اگر ہم چاہتے تو کھڑے ہوسکتے تھے۔ ایسے ہی امام الاجل شمس الائمہ نے بھی روایت کیا ہے۔ اور مولی عبداللہ بن ابی عتبہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں: کہ میں رسول اللہﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ کشتی میں تھا، کہ جن میں حضرت ابوالدرداء، ابو سعید خدری، جابر بن عبداللہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم بھی شامل تھے، نماز کا ٹائم ہوا تو ان میں سے امام آگے بڑھا اور کشتی میں ہی نماز پڑھ لی، اگر ہم چاہتے تو کنارے تک نکل سکتے تھے۔اور(صاحب المحیط کی اپنی بات ہے کہ) کشتی زمین کے معنی میں ہے اس لیے یہ جواز ہے۔
اس عبارت سے خوب واضح ہوا کہ کشتی اور بحری جہاز میں نماز ہر صورت جائز ہے۔ کھڑے ہونے میں تو کسی کا اختلاف نہیں جبکہ بیٹھ کر امام اعظم علیہ الرحمہ کے نزدیک جائز ہے جبکہ دیگر کے نزدیک نہیں ہے۔لیکن یہ اس صورت میں ہے جب کشتی چل رہی ہو، جب رکی ہوتو امام اعظم علیہ الرحمہ کے نزدیک بھی بیٹھنا جائز نہیں ہے۔ (2)
اور اس میں چلتی یا رکی کسی بھی حالت میں اشارے سے نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے، سجدہ اور رکوع ضروری ہے۔ کیونکہ یہاں سجدہ و رکوع کرنے پر قادر ہے۔ صاحب المحیط فرماتے ہیں:
ولا یجوز للمسافر ان یصلی فیھا بالایماء، سواء کانت الصلوٰۃ مکتوبۃ او نافلۃ، لانہ یمکن ان یسجد فیھا، فلا یعذر فی ترکہ، والایماء انما شرع عند العجز وھو قادر۔ (3)
ترجمہ: اور مسافر کےلیے اس(کشتی) میں اشارے سے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے، چاہے فرض نماز ہو یا نفل ہو، اس لیے کہ اس میں سجدہ کرنا ممکن ہے، لہٰذا سجدہ چھوڑنے کا عذر نہیں ہے، اور یہ کہ اشارے کی اجازت عجز کے وقت ہے جب کہ یہاں وہ قدرت رکھتا ہے۔
ضروری وضاحت۱:
جب یہ کہا جاتا ہے کہ بس، ٹرین یا جہاز وغیرہ میں نماز کی ادائیگی جائز
ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر فرض نماز کا وقت داخل ہوتا ہے تو پڑھنا صرف جائز ہے کہ پڑھے یا نہ پڑھے دونوں برابر ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں نماز کی ادائیگی درست ہے۔ کہ ان میں پڑھی ہوئی نماز مقبول ہوگی۔ کہ جیسے مسجد کے علاوہ گھر، دوکان یا کسی اور مقام پر پڑھنا جائز ہوتا ہے ایسے ہی ان میں جائز ہے۔ کہ نماز پڑھنا تو فرض ہی ہے یہ جواز کا فتویٰ درجۂ حکم کےلیے نہیں بلکہ مقام کےلیے ہے۔ اور ایسے ہی اگر جیل میں ہے اور نماز کا وقت ہوگیا تو جیل میں پڑھنا درست ہے کہ وہاں پڑھی ہوئی نماز مقبول ہے۔ لیکن وہاں سے نکل نہیں سکتا تو اس کےلیے وہاں پڑھنا ہی فرض ہے کہ اگر وہاں نہیں پڑھتا اور مسجد جانے کے بہانے وقت گزار دیتا ہے تو گناہگار ہوگا۔ ایسے ہی گھر میں ہے تو گھر میں فرض ہے، دکان، مارکیٹ، کھیت، سفر جہاں بھی ہو وہاں فرض ہے۔ تو ایسے ہی گاڑی، کشتی اور جہاز میں نماز تو فرض ہی ہے کہ اگر نماز نہیں پڑھتا تو گناہگار ہے۔ کہ جیسے اگر کوئی چھت یا تخت پر بیٹھا تو اس کےلیے چھت اور تخت پر ہی نماز پڑھنا جائز ہے۔ اب جواز کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اگر تخت یا چھت پر ہی بیٹھا رہا اور نماز کا وقت گزر گیا مگر ا س نے نماز نہ پڑھی تو گناہگار نہیں کہ اس نے تو صرف جائز کام چھوڑا ہے۔ بلکہ گناہگار ہے فرض چھوڑنے پر اور جواز تو اس کی نماز کی صحت کا تھا۔
نتیجہ یہ ہے کہ جہاں بھی ہو اور وہاں نماز پڑھنا درست اور جائز بھی ہو تو اس کےلیے وہاں نماز فرض ہے۔
ضروری وضاحت۲:
یہاں پر ایک وضاحت ضروری ہے کہ بس، ٹرین، کشتی وغیرہ میں
نماز پڑھنے کی جو بحث کی گئی ہے۔ اس میں جہاں پر ضرورت اور مجبوری ومشکل کو بناء بنایا جاتا وہ فرض نمازوں میں ہے، کسی ذہن میں یہ خیال نہ آئے کہ مجبوری اور تنگی وغیرہ صورتوں میں تو صرف نفلی نماز کی اجازت ہے۔کیونکہ نفل نماز تو بغیر تنگی اور مجبوری کے پڑھنا بھی جائز ہے، چاہے کھڑے ہو کر یا بیٹھ، اشارے سے یا رکوع وسجدہ سے، ہر صورت جائز ہے۔ جب ایسا ہے تو ضرورت، مجبوری اور تنگی یانقصان اور خوف وخطر وغیرہ کی قیود نفل کےلیے نہیں ہیں۔
فتویٰ
کیا کشتی اور بحری جہاز میں ہر صورت نماز پڑھنا جائز ہے؟
نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1۔ ابن مازۃ، المحیط البرھانی، کتاب الصلوۃ، الفصل الثالث والعشرون فی الصلوۃ علی الدابۃ،ج:2 ،ص: 430
2۔ ابن مازۃ، المحیط البرھانی، کتاب الصلوۃ، الفصل الثالث والعشرون فی الصلوۃ علی الدابۃ،ج:2 ،ص: 430
3۔ ابن مازۃ، المحیط البرھانی، کتاب الصلوۃ، الفصل الثالث والعشرون فی الصلوۃ علی الدابۃ،ج:2 ،ص: 431
2۔ ابن مازۃ، المحیط البرھانی، کتاب الصلوۃ، الفصل الثالث والعشرون فی الصلوۃ علی الدابۃ،ج:2 ،ص: 430
3۔ ابن مازۃ، المحیط البرھانی، کتاب الصلوۃ، الفصل الثالث والعشرون فی الصلوۃ علی الدابۃ،ج:2 ،ص: 431
اصل سوال
کیا کشتی اور بحری جہاز میں ہر صورت نماز پڑھنا جائز ہے؟