واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا کرائے کی جگہ پر تعمیر کی گئی مسجد شرعی مسجد کے حکم میں نہیں ہوتی؟

مسجد کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-08-13 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: مسجد مشاہدات: 20

جواب

اگر کوئی شخص کرائے پر زمین لیتا ہے اور اس میں مسجد بنادے تو یہ مستقل مسجد نہیں قرار پائے گی بلکہ عارضی مسجد ہوگی جسے مصلیٰ بھی کہاجاسکتا ہے۔ یعنی وہ صرف نماز کی جگہ ہے مسجدِ شرعی نہیں کہ جس پر شرعی احکام جاری ہوں۔ کیونکہ مسجد کےلیے پہلی شرط یہ ہے کہ اس جگہ کو مسجد کےلیے وقف کردیا جائے۔ اور جس نے کرائے پر زمین لی ہے وہ اسے وقف کرنے کا اہل ہی نہیں ہے کیونکہ وقف کرنے کی اہلیت تو مالک کے پاس ہوتی ہے۔ لہٰذا جب وقف ہی نہ ہوگا تو مسجد قرار نہیں پائے گی۔

اصل سوال

کیا کرائے کی جگہ پر تعمیر کی گئی مسجد شرعی مسجد کے حکم میں نہیں ہوتی؟

مزید فتاویٰ جات

کیا مسجد کی زینت و آرائش کرنا جائز ہے؟ کیا مسجد کی رقم فنائے مسجد پر خرچ کرنا اور مسجد کے لیے وقف شدہ زمین پر فنائے مسجد تعمیر... مسجد کی عمارت کے لیے مخصوص کی گئی زمین اور مسجد کے اثاثہ کے طور پر دی گئی زمین کے احکام... کیا مسجد کی تعمیر اور اس کے اخراجات کے لیے چندہ وصول کرنا جائز ہے؟ کیا مسجد میں نمازِ جنازہ یا دیگر ضروری معاشرتی مسائل کے اعلانات کرنا جائز ہے؟