مسجد کی رقم صرف مسجد کی ذاتی ضروریات پر خرچ کرنا جائز ہے۔ اور امامت واذان لوگوں کی ذمہ داری اگر لوگ اپنی ذمہ داری کسی ایسے شخص کے سپرد کرتے ہیں جسے تنخواہ دینا طے ہوتو وہ تنخواہ لوگوں کی ذمہ داری ہے مسجد کی ذمہ داری نہیں۔ اور ایسے ہی مسجد کی صفائی وغیرہ کےلیے خادمین متعین کرنا بھی لوگوں کی طرف سے ہے تو اس کی ذمہ داری بھی ان پر ہی ہے۔ جس طرح قربانی میں ذبح کرنے والے اور گوشت بنانے والے کو قربانی کے جانور سے مزدوری دینا جائز نہیں ہے۔ ایسے ہی رقم جو خالصۃً مسجد کی تعمیر اور ضروریات مسجد کےلیے جمع کی گئی ہو اس سے امام، مؤذن اور خادمین کی تنخواہیں دینا جائز نہیں ہے۔
لیکن اس دور میں جب مسجد کےلیے چندہ جمع کیا جاتا ہے تو جمع کرنے والے اور جمع کرانے والے دونوں اس غرض سے کرتے ہیں کہ اس سے تنخواہیں ادا کی جائیں گی اور دیگر اخراجات پورے کیے جائیں گے۔ ایسے مساجد میں بچوں کو قرآن پڑھانے کےلیے بھی ایک بندہ ڈیوٹی دیتا ہے اسے بھی مسجد کی انتظامیہ کی طرف تنخواہ ادا کی جاتی ہے۔ لوگ جب چندہ دیتے ہیں تو اس ذہن سے ہی دیتے ہیں کہ اس سے تنخواہیں ادا کی جائیں گی۔ خصوصاً ماہانہ اور ہفتہ وار چندے تو ہوتے ہی اس غرض سے ہیں۔ لہٰذا جب چندہ جمع ہی اس غرض سے ہوگا تو یہ حقیقت میں ان ضروریات اور اخراجات کےلیے ہی ہے۔ اس لیے یہ نہیں کہا جائے گا یہ مسجد کی رقم سے ادائیگی کی گئی اور عام طور پر یہی کہا جاتا ہے کہ مسجد سے تنخواہ دی جارہی ہے وہ اس لیے کہ مسجد ہی اس کام کا مرکز ہوتی ہے تو مسجد کا ہی نام لے دیا جاتا ہے۔ ورنہ مسجد کی رقم سے ایسی تنخواہیں جو لوگوں نے اپنا بوجھ ہلکا کرنے کےلیے طے کررکھی ہیں، ادا کرنا جائز نہیں ہے۔
اور ایسے ہی مسجد کے قریب بنائے جانے والے واش رومز، وضوخانے، سٹورز اور دیگرایسی چیزیں بھی مسجد کی ذاتی رقم سے بنانا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ بھی لوگوں کی ضروریات ہیں۔ جوکہ لوگ اپنی آسانی کےلیے مسجد کے پاس ہی بنا لیتے ہیں۔ مگر مسجد کے چندہ میں ان کےلیے بھی چندہ شامل ہوتو تنخواہوں کی مثل جائز ہے۔
فتویٰ
کیا مسجد کے لیے وقف شدہ رقم سے امام، مؤذن اور خادمین کی تنخواہیں ادا کرنا جائز ہے؟
مسجد کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
اصل سوال
کیا مسجد کے لیے وقف شدہ رقم سے امام، مؤذن اور خادمین کی تنخواہیں ادا کرنا جائز ہے؟