مندرجہ بالا مسئلہ میں بیان کیا جاچکا ہ کہ مسجد اس وقت تک نہیں جب تک کہ اس میں نماز پڑھنے کی اجازت عامہ دے دی جائے۔ اور مزید فرماتے ہیں:
فاذا صلی فیہ واحد زال عند ابی حنیفۃ عن ملکہ۔ (۱)
ترجمہ: جب کوئی ایک بھی اس مسجد میں نماز ادا کرلے گا تو اس کی ملکیت ختم ہوجائے گی۔ اور فرماتے ہیں: یہی موقف امام محمد کا ہے۔
پھر امام محمد کے بارے فرمایا:
انہ یشترط الصلوۃ بالجماعۃ لان المسجد بنی لذلک فی الغالب۔(۲)
ترجمہ: اور امام محمد سے روایت کیا گیا ہے کہ وہ نماز کی جماعت کے ساتھ شرط لگاتے ہیں اس لیے کہ مسجد کا غالب مقصد جماعت ہی ہے۔
امام ابویوسف کا موقف بیان کرتے ہیں:
وقال ابو یوسف یزول ملکہ بقولہ جعلتہ مسجدا۔ (۳)
ترجمہ: اور امام ابویوسف فرماتے ہیں کہ ملکیت یہ کہنے سے ختم ہوجائے گی"میں نے اسے مسجد بنایا"۔
جوشخص مسجد کےلیے زمین وقف کرتا ہے اس کی ملکیت سے زمین کب خارج ہوجائے گی اس پر تینوں ائمہ احناف کے موقف بیان کردیے گئے۔ اول دو یعنی طرفین علیہما الرحمہ نے تو مسجد کی عمارت بن جانے کے بعد بھی اس وقت تک زوال ملکیت کا فتویٰ نہیں دیا جب تک کہ اس میں نماز نہ پڑھ لی جائے اور امام محمدعلیہ الرحمہ تو نماز باجماعت کو شرط قرار دے رہے ہیں۔ اور امام ابویوسف علیہ الرحمہ صرف مسجد کی عمارت کھڑی ہوجانے پر ہی زوال ملکیت کا فتویٰ دیتے ہیں۔
تینوں ائمہ احناف کے نزدیک جب تک مسجد کی عمارت بنے گی نہیں مسجد نہیں کہلائے گی اور نہ ہی مالک کی ملکیت سے زائل ہوگی۔ لہٰذا جب تک مسجد ہوگی نہیں تو اس وقت تک اس جگہ پر احکامِ مسجد کا اجراء بھی نہیں ہوگا۔ جب یہ ثابت ہوگیا تو واضح ہوگیا کہ مسجد کی عمارت بنانے سے پہلے مسجد کےلیے وقف شدہ جگہ کو دوسری جگہ سے بدلا جاسکتا ہے۔
فتویٰ
کیا مسجد کی تعمیر کے لیے وقف کی گئی زمین کا تعمیرِ مسجد سے پہلے دوسری زمین سے تبادلہ کرنا جائز ہے؟
مسجد کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
۱۔ المرغینانی، الھدایۃ، کتاب الوقف، فصل فی وقف المسجد، ج: 2، ص:621
۲۔ المرغینانی، الھدایۃ، کتاب الوقف، فصل فی وقف المسجد، ج: 2، ص:622
۳۔ المرغینانی، الھدایۃ، کتاب الوقف، فصل فی وقف المسجد، ج: 2، ص:622
۲۔ المرغینانی، الھدایۃ، کتاب الوقف، فصل فی وقف المسجد، ج: 2، ص:622
۳۔ المرغینانی، الھدایۃ، کتاب الوقف، فصل فی وقف المسجد، ج: 2، ص:622
اصل سوال
کیا مسجد کی تعمیر کے لیے وقف کی گئی زمین کا تعمیرِ مسجد سے پہلے دوسری زمین سے تبادلہ کرنا جائز ہے؟