واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا مسجد میں مدرسہ قائم کرنا اور اس کا اہتمام کرنا مستحسن ہے؟

مسجد کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-08-13 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: مسجد مشاہدات: 16

جواب

مسجد میں مدرسہ کا اہتمام کیا جائے گا تو اس کام کےلیے مسجد کی اشیاء
اور رقم صرف ہوسکتی ہے جیسے روشنی کرنے کےلیے بجلی کا استعمال، صفوں اور دیگر ایسی اشیاء کا استعمال کیا جاتا ہے۔ مسجد کے خرچ پر ان اشیاء کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟ اس سوال کا جواب مندرجہ ذیل میں ملاحظہ ہو۔
مسجد اسلام میں بنیادی طور پر جہاں عبادت گاہ ہے وہاں تعلیم وتربیت کا مرکز بھی ہے۔ دینی تعلیم و تربیت کےلیے مسجد کا استعمال نہ صرف جائز بلکہ مستحب و مستحن ہے۔ اور سنت رسول اللہﷺ ہے۔ کیونکہ رسول اللہﷺ تعلیم وتربیت کےلیے مسجد کا ہی انتخاب فرماتے تھے۔ بلکہ مقام صفہ جو کہ پہلا اسلامی مدرسہ ہے وہ بھی مسجد نبویﷺ کے اندر تھا۔ اور اس پر بے شمار احادیث شاہد ہیں کہ رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مسجد کو بطور مدرسہ استعمال کیا ہے۔ اس موضوع پر روایات مشہور ہیں کہ یہاں پر حوالہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
جب مسجد کی عمارت، صفیں اور ایسی دیگر چیزوں کو مدرسہ کےلیے استعمال کیا جاسکتا ہے تو لائٹ وغیرہ کے استعمال میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔لہٰذا تعلیم کےلیے مسجد کی بجلی وغیرہ کا استعمال جائز ہے۔

اصل سوال

کیا مسجد میں مدرسہ قائم کرنا اور اس کا اہتمام کرنا مستحسن ہے؟

مزید فتاویٰ جات

کیا مسجد کی زینت و آرائش کرنا جائز ہے؟ کیا مسجد کی رقم فنائے مسجد پر خرچ کرنا اور مسجد کے لیے وقف شدہ زمین پر فنائے مسجد تعمیر... مسجد کی عمارت کے لیے مخصوص کی گئی زمین اور مسجد کے اثاثہ کے طور پر دی گئی زمین کے احکام... کیا مسجد میں نمازِ جنازہ یا دیگر ضروری معاشرتی مسائل کے اعلانات کرنا جائز ہے؟ کیا محراب مسجد میں شامل ہے اور اس میں کھڑے ہوکر نماز کی جماعت درست ہے؟