واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا مسجد میں سحری اور افطاری کے لیے سائرن بجانا خلافِ سنت ہے؟

مسجد کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-08-13 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: مسجد مشاہدات: 17

جواب

اسلام نے اوقاتِ صلوۃ اور سحروافطارِ صوم کےلیے اذان کا طریقہ دیا ہے۔ نمازوں کےلیے تو بالکل ہی اذان ہے اس میں تو آج تک کسی نے کوئی دوسری رائے اختیار ہی نہیں کی، اور نہ ہی کسی کے عمل سے ایسا ظاہر ہوا کہ اذان کے علاوہ کوئی اور طریقہ اعلامِ صلوۃ کا ایجاد کرلیا گیا ہو۔
مگر سحروافطارِ صوم کےلیے اس دور میں اذان کے سوا سائرن بجانے کا طریقہ اختیار کرلیا گیا ہے۔ جبکہ اسلام میں سحرو افطار کےلیے بھی اذان ہی ہے۔ یہ عمل تو اتر سے ثابت ہے اور اس پر روایات کثیر ہیں بطور اشھاد ایک روایت درج کی جاتی ہے۔ صحیح بخاری کی حدیث حضرت سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم اپنے باپ یعنی حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں:
ان رسول اللہﷺ قال: ان بلالا یؤذن بلیل فکلوا واشربوا حتیٰ ینادی ابن ام مکتوم۔ (۱)
ترجمہ: رسول اللہﷺ نے فرمایا:بلال اذان دیتے ہیں تو کھاتے پیتے رہا کرو جب تک کہ ابن ام مکتوم(فجر کی) اذان نہ دے دیں۔
یہ جو رسول اللہﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کا ذکر فرمایا یہ اذان سحری ہوا کرتی تھی، لہٰذا اعلانِ سحری بھی اذانِ(بلال رضی اللہ عنہ) سے اور اختتام سحری بھی اذانِ (ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ) سے اور ایسے افطار کےلیے بھی اذان مغرب کو دیکھا جاتا تھا۔
لہٰذا یہ سائرن بجانا ایک بدعت ہے، کہ جس میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔ کیونکہ اس سے آواز دے کر مطلع کیا جاتا ہے اور اذان سے بھی یہی کام ہوا کرتا ہے۔ اس لیے یہ عمل کوئی مستحسن اضافہ نہیں ہے۔ اور اگر ا کی آواز کچھ زیادہ بھی ہوتو ضرورت نہیں کیونکہ مساجد میں اذانوں کی آوازیں اتنی کثرت سے آتی ہیں کہ اس کی حاجت نہیں رہتی۔ اور یہ لاؤڈ سپیکر میں اذان کی طرح مستحسن بدعت نہیں ہے کہ جیسے پہلے اذان کےلیے ایک فرد اپنی ہی آواز پہنچاتا جہاں تک پہنچ جاتی اور اب لاؤڈ سپیکر سے وہ آواز بہت دور تک سنائی دیتی ہے۔ جس بناء اسے بدعت حسنہ کےطور پر قبول کرلیا گیا ہے۔
اور یہ سائرن ایک ناقوس کی طرز کی ہی آواز ہے جسے اللہ اور اس کے رسول اللہﷺ نے ناپسند فرمادیا تھا۔ جب نماز کے بلاوے کا معاملہ پیش ہوا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مختلف آراء پیش کیں حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ذکروا النار والناقوس، فذکروا الیھود والنصاریٰ، فامر بلال ان یشفع الاذان وان یوتر الاقامۃ۔(۲)
ترجمہ: لوگوں نے آگ اور ناقوس(سائرن) کا ذکر کیا، اور یھود ونصاریٰ(کی مثال) کا ذکر کیا، تو حضرت بلال کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان کےکلمات کو دودوبار دہرا کر کہیں، اور اقامت کو ایک ایک بار۔
ناقوس کہہ لیں یا سائرن یا باجہ کچھ بھی نام رکھ لیا جائے یہ آواز اللہ عزوجل اور اس کے رسولﷺ کی ناپسندیدہ ہے۔ کیونکہ آپﷺ نے سب مشورے رد کرتے ہوئے اذان کا حکم دیا اور اللہ رب العزت نے حضرت جبریل علیہ السلام کو ایک صحابی کے خواب میں اذان سکھانے کےلیے بھیج کر اپنی طرف سے بھی مہر تصدیق ثبت کردی۔
لیکن اذان کا مقصد اعلامِ صلوۃ تھا اور اعلامِ صلوۃ اذان سے خاص ہے، اور سحروافطار کا اعلام اذان سے مخصوص نہیں ہے۔ اس لیے اگر تو اذان کی جگہ ایسی بدعت داخل ہوجائے وہ تو سراسر گمراہی، ضلالت اور مستحق عتاب ہوگی۔ اور روزہ کا اعلان اذان سے مخصوص نہیں اس لیے روزہ کےلیے ایسے بدعت کا اجراء اتنی بڑی ضلالت و گمراہی تو نہیں لیکن کم از کم کراہت تنزیہی سے تو نہیں بچ سکے گی۔

حوالہ

۱۔ بخاری، الصحیح، کتاب الاذان، باب اذان الاعمی، رقم الحدیث:617
۲۔ بخاری، الصحیح، کتاب الاذان، باب بدء الاذان، رقم الحدیث:603

اصل سوال

کیا مسجد میں سحری اور افطاری کے لیے سائرن بجانا خلافِ سنت ہے؟

مزید فتاویٰ جات

کیا مسجد کی زینت و آرائش کرنا جائز ہے؟ کیا مسجد کی رقم فنائے مسجد پر خرچ کرنا اور مسجد کے لیے وقف شدہ زمین پر فنائے مسجد تعمیر... مسجد کی عمارت کے لیے مخصوص کی گئی زمین اور مسجد کے اثاثہ کے طور پر دی گئی زمین کے احکام... کیا مسجد کی تعمیر اور اس کے اخراجات کے لیے چندہ وصول کرنا جائز ہے؟ کیا مسجد میں نمازِ جنازہ یا دیگر ضروری معاشرتی مسائل کے اعلانات کرنا جائز ہے؟