مسجد کو روشن کرنا باعث اجرہے، اور جتنے لوگ اس روشنی میں نماز پڑھیں گے وہ بھی روشن کرنے والے کےلیے اجر کا باعث ہے۔ لیکن اگر ضرورت سے زائد لائٹنگ کی جائے تو اس کا حکم کیا ہوگا؟ اگر تو کوئی نمائش کی نیت سے کرتا ہے تو اس کی وضاحت گزر چکی کہ یہ عمل باعث اجر نہیں ہے۔ مگر بنیتِ اجر جو عمل ہوگا وہ باعث اجر ہے۔ فخر اور نمائش کے دور میں اگر اللہ کے گھر کو سب گھروں سے خوبصورت، اعلیٰ اور شاندار بنانے کی غرض سے اگر زائد لائٹنگ کی جائے گی تو اسے فضول خرچی نہیں کہا جائےگا۔ کیونکہ اسلام پر عمل کرنے کے ساتھ اسلام کی ہیبت اور عزت بھی لوگوں کی نظروں میں بڑھانا بذاتِ خود ایک مقصدِ اعلیٰ ہے۔اور مسجد کی آبادی کا اظہار کرنا بھی باعث اجر ہے کہ اگر اس لیے اضافی لائٹنگ کردی جائے کہ مسجد کی آبادی کی اطلاع ہوتی رہے تو یہ بھی باعث اجر ہے۔ کہ رسول اللہﷺ کی آزاد کردہ باندی حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ سے سوال کیا: بیت المقدس کے بارے ہمیں حکم ارشاد فرمائیے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
ائتوہ فصلو فیہ وکانت البلاد اذ ذاک حربافان لم تأتوہ وتصلوا فیہ فابعثوا بزیت یسرج فی قنادیلہ۔
ترجمہ: وہاں جاؤ اور نماز پڑھو۔یہ وہ علاقے ہیں جہاں جنگ جاری ہے اگر جاکر نماز نہ پڑھ سکو تو اس کے چراغ جلانے کےلیے تیل بھیج دو۔
اس حدیث پاک سے واضح ہے کہ یہ ایسے دور کی بات ہے جب بیت المقدس مسلمانوں کے قبضہ میں نہیں تھا، کیونکہ اس کی فتح تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ہے۔ اس کا مطلب ہے وہاں مسلمانوں نے کوئی نماز نہیں پڑھنی تھی بلکہ صرف مسجد کی تکریم کےلیے اور مسجد کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنے کےلیے حکم تھا۔ اس لیے کسی مسجد میں لوگوں کو متوجہ کرنے کےلیے یا مسجد کی تعظیم وتکریم کا اظہار کرنے کےلیے لائٹنگ کی جائے کہ لوگ اپنے گھروں کو مسجد سے اعلیٰ نہ جانے بلکہ اس فخر کے دور میں مسجد کو تمام عمارات میں نمایاں حیثیت حاصل ہو کہ بلندوبالا عمارات اس مسجد کی عمارات کے سامنے ہیچ ہوجائیں تو یہ نہ صرف جائز ہے بلکہ باعث اجر ہونے کی بھی امید ہے۔ اور اس کے ساتھ کفار کو مساجد سے مسلمانوں کی عقیدت بھی دکھائی جائے تو یہ بھی ایسا عمل ہے جس سے اسلام کی ہیبت کا اظہار ہوتا ہے۔ اوریہ باعث اجر ہے۔
فتویٰ
کیا مسجد میں ضرورت سے زائد لائٹنگ کرنا جائز ہے؟
مسجد کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
اصل سوال
کیا مسجد میں ضرورت سے زائد لائٹنگ کرنا جائز ہے؟