مخصوص ایام میں عورت پر نماز، روزہ، تلاوت اور مسجد میں آنا وغیرہ ممنوع ہوتا ہے۔ قرآن کی تلاوت کرنا بھی ان ایام میں منع ہوتا۔ اب مسئلہ ان عورتوں کے متعلقہ ہے کہ جو معلمات ومتعلمات ہوں کہ ان کا ہر ماہ کئی کئی دن تک تعلیم سے دور رہنے سے حرج لازم آئے گا۔ ان حالات میں بھی قرآن کی تلاوت کی اجازت تو نہیں دی جائے گی۔ مگر علماء نے بیان کیا ہے کہ اگر آیت کو تمام جملہ کے ساتھ نہیں بلکہ لفظ لفظ کرکے پڑھے اور سیکھے تو یہ تلاوت کے زمرہ میں نہیں آئے گا کہ منع ہو اور اس سے تعلیم بھی جاری رہے گی۔ زین الدین ابن نجیم مصری الحنفی علیہ الرحمہ البحرالرائق میں فرماتے ہیں:
وفی النھایۃ و غیرہا: و اذا حاضت المعلمۃ فینبغی لھا ان تعلم الصبیان کلمۃ کلمۃ و تقطع بین الکلمتین علی قول الکرخی، وعلی قول الطحاوی تعلم نصف آیۃو فی التفریع نظر علی قول الکرخی فانہ قائل باستواء الآیۃ وما دونھا فی المنع اذا کان ذلک بقصد قرأۃ القرآن ومادون الآیۃ صادق علی الکلمۃ، وان حمل علی التعلیم دون قصد القرآن فلا یتقید بالکلمۃ۔ ثم فی کثیر من الکتب التقیید بالحائض المعلمۃ معللا بالضرورۃ مع امتداد الحیض وظاہرہ عدم الجواز للجنب۔ لکن فی الخلاصۃ: واختلف المتأخرون فی تعلیم الحائض والجنب والاصح انہ لا بأس بہ ان کان یلقن کلمۃ کلمۃ ولم یکن من قصدہ ان یقرأ آیۃ تامۃ، والاولی ولم یکن من قصد قرأت القرآن کما لا یخفی۔(1)
ترجمہ: نہایہ اور اس کے علاوہ کتب میں ہے: کہ جب حائضہ عورت معلمہ ہو تو اس کےلیے بچوں کو ایک ایک کلمہ کی تعلیم دینا جائز ہوگا اور کرخی کا قول یہ ہے کہ دوکلموں کے درمیان وقفہ کرے، اور امام طحاوی کے قول کے مطابق آدھی آیت کی تعلیم جائز ہے۔ اور تفریع میں ہے کہ کرخی کے قول پر اعتراض وارد ہوتا ہے کہ وہ پوری آیت یا اس سے کم پر منع کے قائل ہیں جب قرأۃ قرآن کا ارادہ ہو، تو ایک آیت سے کم میں ایک کلمہ بھی آتا ہے(اس طرح سے ایک کلمہ کا جواز بھی نہ رہا)، اور اگر تلاوت قرآن کے ارادہ کے علاوہ تعلیم پر محمول کیا جائے تو کلمہ کی قید نہیں لگائی جائے گی۔ اور کثیر کتب میں حائضہ معلمہ کو ضرورت کی علت سے مقید کیا ہے اور ظاہر میں جنبی کےلیے عدم جواز ہی ہے۔ لیکن خلاصہ میں ہے کہ: متأخرین نے حائضہ اور جنبی کے تعلیم دینے میں اختلاف کیا ہے اور صحیح یہی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے اگر ایک ایک کلمہ کی تلقین کرتا رہے، اور اس کا یہ ارادہ نہ ہو کہ وہ پوری آیت پڑھے گا، اور اولی بات یہی ہے کہ قرآن کی تلاوت کا ارادہ نہ کرے۔
علامہ ابن عابدین درمختار کی شرح میں فرماتے ہیں:
لانہ جوز للحائض المعلمۃ تعلیمہ کلمۃ کلمۃ۔(2)
ترجمہ: مصنف(علامہ حصکفیؒ) نے حائضہ معلمہ کےلیے ایک ایک کلمہ کی تعلیم دینا جائز قرار دیا ہے(یعنی ابن عابدین نے خود بھی اسے جائز ہی قرار دیا ہے)۔
ان کتب کی تفصیل کے بعد دیگر ان کتب کے نام ذکر کرتا ہوں جن میں اس مسئلہ کی صراحت موجود ہے۔ النھر الفائق شرح کنز الدقائق (3)، الجوہرۃ النیرۃ شرح القدوری(4) ، شرح وقایہ(5) اور ان کے علاوہ دیگر کتب فقہ میں اس مسئلہ کی صراحت موجود ہے۔ ان کتب کا حوالہ نمبروں کے حساب سے درج کردیا گیا ہے۔
فتویٰ
کیا قرآن کی معلمہ یا متعلمہ مخصوص ایام (حیض و نفاس) میں قرآن پڑھ سکتی ہے؟
عمومی کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1 ۔ ابن نجیم، البحر الرائق، کتاب الطھارۃ، باب الحیض، ج: 1 ، ص:348
2۔ شامی، رد المحتار، کتاب الطھارۃ، باب الحیض،ج:1 ، ص:487
3۔ ابن نجیم، النھر الفائق، کتاب الطھارۃ، باب الحیض، ج: 1 ، ص:134
4۔ الحداد، الجوہرۃ ، کتاب الطھارۃ، باب الحیض، ج:1 ،ص:35
5۔ صدر الشریعۃ، شرح الوقایۃ، کتاب الطھارۃ، باب الحیض والنفاس، ج:1،ص:89
2۔ شامی، رد المحتار، کتاب الطھارۃ، باب الحیض،ج:1 ، ص:487
3۔ ابن نجیم، النھر الفائق، کتاب الطھارۃ، باب الحیض، ج: 1 ، ص:134
4۔ الحداد، الجوہرۃ ، کتاب الطھارۃ، باب الحیض، ج:1 ،ص:35
5۔ صدر الشریعۃ، شرح الوقایۃ، کتاب الطھارۃ، باب الحیض والنفاس، ج:1،ص:89
اصل سوال
کیا قرآن کی معلمہ یا متعلمہ مخصوص ایام (حیض و نفاس) میں قرآن پڑھ سکتی ہے؟