عَنْ اَبِی الْاَحْوَصِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّﷺ اَنَّہٗ کَانَ یُسَلِّمُ عَنْ یَمِیْنِہٖ وَ عَنْ یَسَارِہٖ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ۔ (1)
حضرت ابو احوص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ نماز کے اختتام پر دائیں جانب سلام پھیرتے تو کہتے: ’’ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ‘‘ اور بائیں جانب سلام پھیرتے تو کہتے: ’’ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ۔‘‘
سنن نسائی کی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے:
’’کَأَنِّی اَنْظُرُ اِلٰی بَیَاضِ خَدِّہٖ‘‘
گویا کہ میں (ابھی بھی) آپﷺ کے رخسار مبارک کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں۔ یعنی حضور نبی کریمﷺ سلام کرتے وقت چہرہ انور کو مکمل طور پر پھیر لیا کرتے تھے۔
فتویٰ
کیا نماز کے آخر میں سلام پھیرنا ضروری ہے؟
نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1 ۔ ترمذی ، السنن ، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء فی التسلیم فی الصلاۃ،رقم : 272
نسائی ، السنن ، کتاب السھو ، باب کیف السلام علی الشمال ، رقم : 1321
نسائی ، السنن ، کتاب السھو ، باب کیف السلام علی الشمال ، رقم : 1321
اصل سوال
کیا نماز کے آخر میں سلام پھیرنا ضروری ہے؟