واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا نماز پڑھنے کے بعد ذکر کرنا سنت ہے؟

نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-29 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: نماز مشاہدات: 1

جواب

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ قَالَ جَاءَ الْفُقَرَاءُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ فَقَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ اَنَّ الْاَغْنِیَاءَ یُصَلُّوْنَ کَمَا نُصَلِّی وَ یَصُوْمُوْنَ کَمَا نَصُوْمُ وَ لَھُمْ اَمْوَاْلٌ یُعْتِقُوْنَ وَ یَتَصَدَّقُوْنَ قَالَ فَاِذَا صَلَّیْتُمْ فَقُوْلُوْا سُبْحَانَ اللّٰہِ ثَلَاثًا وَ ثَلَاثِیْنَ مَرَّۃً وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ ثَلَاثًا وَ ثَلَاثِیْنَ مَرَّۃً وَ اللّٰہُ اَکْبَرُ اَرْبَعًا وَ ثَلَاثِیْنَ مَرَّۃِ وَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ عَشْرَ مَرَّاْتٍ فَاِنَّکُمْ تُدْرِکُوْنَ بِہٖ مَنْ سَبَقَکُمْ وَ لَا یَسْبِقُکُمْ مَنْ بَعْدُکُمْ۔ وَ قَدْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّﷺ اَنَّہٗ قَالَ خَصْلَتَانِ لَا یُحْصِیْھِمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ اِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ یُسَبِّحُ اللّٰہَ فِی دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ عَشْرًا وَ یَحْمِدُہٗ عَشْرًا وَ یُکَبِّرُہٗ عَشْرًا وَ یُسَبِّحُ اللّٰہَ عِنْدَ مَنَامِہٖ ثَلَاثَۃً وَ ثَلَاثِیْنَ وَ یَحْمِدُہٗ ثَلَاثَۃً وَ ثَلَاثِیْنَ وَ یُکَبِّرُہٗ اَرْبَعًا وَ ثَلَاثِیْنَ۔ (1)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بار فقیر لوگ حضور نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہﷺ غنی لوگ ہماری طرح نماز بھی پڑھتے ہیں اور ہماری ہی طرح روزے بھی رکھتے ہیں اور ان کے پاس (ہم سے اضافی) مال ہیں وہ ان سے غلاموں کو آزاد کرتے اور صدقے کرتے ہیں(جس طرح سے وہ ہم سے سبقت لے جاتے ہیں) حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا: جب تم نماز پڑھ لیا کرو تو تینتیس بار سُبْحَانَ اللّٰہِ ، تینتیس بار اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ، چونتیس بار اَللّٰہُ اَکْبَرُ اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ دس بار کہا کرو۔ تو تم ان کو پا لو گے ا س میں جس میں وہ تم سے سبقت لے گئے ہیں اور جو تمہارے بعد ہوں گے وہ تم سے سبقت نہیں لے جا سکیں گے۔ اور حضور نبی کریمﷺ سے روایت کیا گیا ہے کہ دو عادتیں ایسی ہیں جو آدمی ان کی حفاظت کرے گا وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ (ان میں سے ایک یہ کہ)ہر نما زکے بعد دس بار سُبْحَانَ اللّٰہِ ، دس بار اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور دس بار اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہے ، (اور دوسری عادت یہ ہے کہ) وہ سوتے وقت تینتیس بار سُبْحَانَ اللّٰہِ ، تینتیس بار اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور چونتیس بار اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہے۔

حوالہ

1 ۔ ترمذی ، السنن ، کتاب الصلوۃ ، باب فی التسبیح فی ادبار الصلاۃ، رقم: 375

اصل سوال

کیا نماز پڑھنے کے بعد ذکر کرنا سنت ہے؟

مزید فتاویٰ جات

نماز کی ابتداء کس طرح کی جائے؟ کیا سلام پھیرنے کے بعد دعا مانگنا جائز ہے؟ کیا نماز کے آخر میں سلام پھیرنا ضروری ہے؟ کیا رکوع و سجود میں جاتے اور اٹھتے وقت تکبیر کہنا سنت ہے؟ کیا سورۂ فاتحہ کے بعد کسی دوسری سورت کی قراءت کرنا ضروری ہے؟