واپس فتاویٰ

فتویٰ

نماز کی ابتداء کس طرح کی جائے؟

نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-29 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: نماز مشاہدات: 17

جواب

عَنْ عَلِیٍّ و عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ مِفْتَاحُ الصَّلٰوۃِ الطَّہُوْرُ وَ تَحْرِیْمُھَا التَّکْبِیْرُ وَ تَحْلِیْلُھَا التَّسْلِیْمُ۔ (1)
حضرت علی اورحضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا:وضو نماز کی چابی ہے، تکبیر تحریمہ(جس سے نماز شروع کی جاتی ہے کہ اس تکبیر کے بغیر نماز شروع نہیں کی جاسکتی) نماز کے علاوہ تمام کام کرنے سے روک دیتی ہے، اور سلام (نماز کی انتہاء کے ذریعہ سے) معمولات کے کام کرنا حلال کر دیتاہے۔
عَنْ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعِ اَنَّ النَّبِیَّﷺ کَانَ جَالِسًا فِی الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلیّٰ وَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ یَنْظُرُ اِلَیْہِ فَقَالَ لَہٗ اِذَا قُمْتَ فِی صَلَاتِکَ فَکَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ اِنْ کَانَ مَعَکَ قُرْاٰنٌ فَاِنْ لَمْ یَکُنْ مَعَکَ قُرْاٰنٌ فَاحْمَدِ اللّٰہَ وَ کَبِّرْ وَ ھَلِّلْ ثُمَّ ارْکَعْ حَتّٰی تَطْمَئِنَّ رَاْکِعًا ثُمَّ قُمْ حَتّٰی تَعْتَدِلَ قَاْئِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتّٰی تَطْمَئِنَّ سَاْجِدًا ثُمَّ اجْلِسْ حَتّٰی تَطْمَئِنَّ جَاْلِسًا فَاِذَا فَعَلْتَ ذٰلِکَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُکَ وَ مَا نَقَصْتَ مِنْ ذٰلِکَ فَاِنَّمَا تَنْقُصُ مِنْ صَلَاتِکَ۔ (2)
حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ مسجد میں بیٹھے تھے ایک شخص داخل ہوا اور اس نے نماز پڑھی اور رسول اللہﷺ اسے دیکھ رہے تھے پھر اس سے حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا: جب تو نماز کےلئے کھڑا ہو تو تکبیر کہہ پھر قرآن میں سے وہ پڑھ جو تجھے آتا ہے، اگر قرآن نہ آتا ہو تو پھر اللہ کی حمد کر اور تکبیر کہہ اور اس کی پاکی بیان کر، پھر تو رکوع کر یہاں تک تو رکوع میں مطمئن ہو جائے، پھر کھڑا ہو جا یہاں تک کہ تو سیدھا کھڑا ہو جائے، پھر سجدہ کر یہاں تک کہ تو سجدہ کرنے میں مطمئن ہو جائے، پھر بیٹھ جا یہاں تک کہ تو بیٹھنے میں مطمئن ہو جائے، پس جب تو ایسا کرے گا تو تیری نماز مکمل ہو گئی اور اگرا س میں کوئی کمی کر دی تو تیری نماز میں کمی رہ گئی۔
جامع ترمذی میں کچھ الفاظ کی تبدیلی سے یہ روایت درج ہے۔

حوالہ

1۔ ترمذی،السنن،کتاب الصلوۃ،باب ماجاء فی تحریم الصلوۃ وتحلیلھا،رقم : 221
ترمذی ، السنن ، باب ما جاء ان مفتاح الصلوۃ الطہور ، رقم الحدیث : 3
ابو داؤد ،السنن ، کتاب الصلوۃ،باب فرض الوضوء ، رقم الحدیث:61
ابو داود ، السنن ، باب الامام یحدث بعد ما یرفع راسہ من آخر الرکعۃ ، رقم : 618
ابن ماجۃ ، السنن ،کتاب الطہارۃ،باب مفتاح الصلوۃ الطہور،رقم الحدیث: 275_6
2 ۔ ترمذی ، السنن، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء فی وصف الصلوۃ ، رقم الحدیث : 278
الطحاوی ، شرح معانی الآثار ، باب مقدار الرکوع والسجود ، رقم : 1358

اصل سوال

نماز کی ابتداء کس طرح کی جائے؟

مزید فتاویٰ جات

اگر کسی نے گھڑی یا کیلنڈر کے مطابق نماز پڑھی، پھر معلوم ہوا کہ نماز کا وقت داخل نہیں ہو... کیا ایسے علاقوں میں، جہاں تقریباً چھ ماہ دن یا رات رہتی ہو، ایک دن میں پانچوں نمازیں فر... کیا ایسے علاقے میں، جہاں بعض نمازوں کا وقت ہی نہیں آتا، ان نمازوں کی فرضیت ساقط ہو جائے... تشہد (التحیات) پڑھنے کا طریقہ کیا ہے؟ کیا نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا سنت ہے؟