عَنْ اَبِی جُحَیْفَۃَ اَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ قَالَ مِنَ السُّنَّۃِ وَضْعُ الْکَفِّ عَلَی الْکَفِّ فِی الصَّلَاۃِ تَحْتَ السُّرَّۃِ۔
حضرت ابو جحیفہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا: (حضور نبی کریمﷺ کی) سنت ہے نماز میں ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر ناف کے نیچے باندھنا۔
عَنْ اَبِی وَاْئِلٍ قَالَ قَالَ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ اَخْذُا الْاَکُفِّ عَلَی الْاَکُفِّ فِی الصَّلٰوۃِ تَحْتَ السُّرَّۃِ۔
حضرت ابووائل فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نماز میں ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے پکڑکر ناف کے نیچے(باندھنا سنت) ہے۔
فتویٰ
کیا نماز میں دونوں ہاتھوں کو ناف کے نیچے باندھنا سنت ہے؟
نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1 ۔ ابو داود ، السنن ، کتاب الصلوۃ ، باب وضع الیمنی علی الیسری فی الصلوۃ ، رقم : 756
2۔ ابو داود ، السنن ، کتاب الصلوۃ ، باب وضع الیمنی علی الیسری فی الصلوۃ ، رقم : 758
2۔ ابو داود ، السنن ، کتاب الصلوۃ ، باب وضع الیمنی علی الیسری فی الصلوۃ ، رقم : 758
اصل سوال
کیا نماز میں دونوں ہاتھوں کو ناف کے نیچے باندھنا سنت ہے؟