واپس فتاویٰ

فتویٰ

نماز میں خُمرہ (خمرۃ) سے کیا مراد ہے اور اس کا شرعی مفہوم کیا ہے؟

نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-08-19 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: نماز مشاہدات: 13

جواب

ابن قلیج مغلطائی الحنفی خمرہ کی تعریف کرتے ہیں:
الخمرۃ حصیرۃ تنسج من السعف اصغر من المصلی۔ (1)
ترجمہ: خمرہ چٹائی ہے جسے کھجور کے پتوں اور شاخوں سے بنا جاتا ہے یہ مصلی سے چھوٹا ہوتا ہے۔
بدرالدین عینی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
الخمرۃ کالحصیر الصغیر یعمل من سعف النخل ، وینسج بالسیور والخیوط، وھی علی قدر ما یوضع علیہ الوجہ والانف، فاذا کبرت عن ذلک فھی حصیر۔ (2)
ترجمہ: خمرہ چھوٹی چٹائی کی طرح ہوتا ہے جسے کھجور کے پتوں وغیرہ سے بنایا جاتا ہے، اور اسے تسموں اور دھاگوں سے بناجاتا ہے۔ اور یہ اس مقدار میں ہوتا ہے کہ اس پر چہرہ اور ناک رکھی جاسکے اگر یہ بڑا ہوجائے تو یہی چٹائی ہے۔
سنن ابی داود میں حدیث ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہ(3) پر شرح کرتے ہوئے بدرالدین عینی الحنفی فرماتے ہیں:
جواز الصلوۃ علی الخمرۃ من غیر کراھۃ۔ (4)
ترجمہ: خمرہ پر نماز پڑھنا بغیر کراہت جائز ہے۔
اور مزید فرمایا:
وفعلہ جابربن عبداللہ، وابوذر، وزید بن ثابت، وابن عمر وقال ابن المسیب: الصلاۃ علی الخمرۃ سنۃ۔ (5)
ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ، ابوذرغفاری، زیدبن ثابت اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے بھی ایسا ہی کیا اور حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: خمرہ پر نماز پڑھنا سنت ہے۔
جواز الصلوۃ علی الحصیر من غیر کراھۃ، وفی معناہ: کل شیء یعمل من نبات الارض وھذا اجماع۔ (6)
ترجمہ: چٹائی پر نماز پڑھنا بلاکراہت جائز ہے اور اس کے معنی میں ہر وہ چیز جو زمین کی پیداوار سے ہوگی وہ بھی شامل ہے(یعنی اس پیداوار سے اگر چٹائی وغیرہ بنائی جائے) اور یہ اجماع ہے۔
ان مذکورہ بالا احادیث اور ان پر علامہ بدرالدین اور مغلطائی علیہما الرحمہ کی مفصل توضیح کے بعد واضح ہوا کہ صف، چٹائی، دری اور قالین پر نماز پڑھنا جائز ہے۔

حوالہ

1 ۔ مغلطائی، حافظ علاؤالدین ابن قلیج بن عبداللہ الحنفی، تاریخ پیدائش: 689ھ، آپ نے صحیح بخاری، سنن ابوداود، سنن ابن ماجۃ، کی شروح کیں، اور اسماء الرجال میں ذیل علی التھذیب اور ذیل علی المؤتلف والمختلف لکھیں، تخریج زوائد ابن حبان علی الصحیحن تحریر کی، سیرت میں الزھر الباسم فی سیرۃ ابی القاسمﷺ، اور ان کے علاوہ اوھام الاطراف، المبھمات علی الابواب، بیان الوھم لابن القطان آپ کی معروف تصانیف ہیں۔ عرب وعجم آپ سے مستفیض ومستفید ہوئے خصوصاً یمن اور ھند آپ کی تدریس کے مرکز رہے۔ تاریخ وفات: 762ھ،شرح سنن ابن ماجۃ، کتاب الصلوۃ، باب الصلوۃ علی الخمرۃ،ج:3، شرح تحت رقم الحدیث:1028
2۔ عینی،شرح ابی داود،کتاب الصلوۃ،باب الصلوۃ علی الخمرۃ،رقم الباب:85
3۔ ابوداود، السنن، کتاب الصلوۃ، باب الصلوۃ علی الخمرۃ، رقم الحدیث:656
4۔ عینی،شرح ابی داود،کتاب الصلوۃ،باب الصلوۃ علی الخمرۃ،تحت رقم:637
5۔ عینی،شرح ابی داود،کتاب الصلوۃ،باب الصلوۃ علی الخمرۃ،تحت رقم:367
6۔ عینی،شرح ابی داود،کتاب الصلوۃ،باب الصلوۃ علی الحصیر، تحت رقم:638

اصل سوال

نماز میں خُمرہ (خمرۃ) سے کیا مراد ہے اور اس کا شرعی مفہوم کیا ہے؟

مزید فتاویٰ جات

اگر کسی نے گھڑی یا کیلنڈر کے مطابق نماز پڑھی، پھر معلوم ہوا کہ نماز کا وقت داخل نہیں ہو... کیا ایسے علاقوں میں، جہاں تقریباً چھ ماہ دن یا رات رہتی ہو، ایک دن میں پانچوں نمازیں فر... کیا ایسے علاقے میں، جہاں بعض نمازوں کا وقت ہی نہیں آتا، ان نمازوں کی فرضیت ساقط ہو جائے... تشہد (التحیات) پڑھنے کا طریقہ کیا ہے؟ کیا نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا سنت ہے؟