فتویٰ
کیا پیشاب کی نلکی لگی ہونے کی صورت میں مریض معذور کے حکم میں ہوگا؟
عمومی کے موضوع پر شرعی رہنمائی
سوال
کیا پیشاب کی نلکی لگی ہونے کی صورت میں مریض معذور کے حکم میں ہوگا؟
جواب
جب کسی بھی شخص کو پیشاب کی نلکی لگی ہوگی تو یہ بات یقینی ہے کہ قطرات تسلسل سے جاری ہوتے رہتے ہیں۔ اور نلکی کا استعمال ہے ہی اسی لیے۔ لہٰذا جب نلکی سے مسلسل قطراتِ بول نکلیں گے تو یقیناً یہ سلسل البول کے حکم ہوگا۔ اور سلسل البول والا شخص معذور ہے یعنی جس کےلئے قاعدہ یہ ہے کہ وہ ہر نماز کے شروع میں وضو کرے گا اور دوسری نماز تک اسی پر قائم رہے گا جب تک کہ اس عذر کے علاوہ کوئی اور عارضہ لاحق نہ ہوا ہو۔اس حوالے سے صاحب قدوری فرماتے ہیں:
ھٰؤلاء یتوضؤون لوقت کل صلوۃ و یصلون بذالک الوضو ما شاؤو من الفرائض والنوافل ولا ینتقض وضوئہم الی خروج الوقت بذالک الناقض الدائم المستمرواذا خرج الوقت انتقض وضوئھم۔ اذا کان مبتلی بالرعاف الدائم فبال بعد الوضوء ینتقض وضوئہ بالبول۔ (1)
ترجمہ: یہ لوگ(جو کہ نکیر، زخم یا بول کے تسلسل سےمعذور ہیں) ہر نماز کے وقت میں وضو کریں گے اور اس وضو کے ساتھ فرائض و نوافل میں سے جتنی چاہیں نمازیں پڑھیں اور ان کا وضو وقت کے نکلنے تک اس مسلسل وضو کو توڑدینے والی چیز کے خارج سے نہیں ٹوٹے گاجب وقت نکل جائے گا تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ جب مستقل نکیر کے مریض نے وضو کے بعد پیشاب کیا تو اس کا وضو پیشاب کی وجہ سے ٹوٹ جائے گا۔
حوالہ:
1 ۔ قدوری ، المختصر ، کتاب الطہارۃ ، حکم المستحاضۃ والمعذور، ص : 78
ھٰؤلاء یتوضؤون لوقت کل صلوۃ و یصلون بذالک الوضو ما شاؤو من الفرائض والنوافل ولا ینتقض وضوئہم الی خروج الوقت بذالک الناقض الدائم المستمرواذا خرج الوقت انتقض وضوئھم۔ اذا کان مبتلی بالرعاف الدائم فبال بعد الوضوء ینتقض وضوئہ بالبول۔ (1)
ترجمہ: یہ لوگ(جو کہ نکیر، زخم یا بول کے تسلسل سےمعذور ہیں) ہر نماز کے وقت میں وضو کریں گے اور اس وضو کے ساتھ فرائض و نوافل میں سے جتنی چاہیں نمازیں پڑھیں اور ان کا وضو وقت کے نکلنے تک اس مسلسل وضو کو توڑدینے والی چیز کے خارج سے نہیں ٹوٹے گاجب وقت نکل جائے گا تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ جب مستقل نکیر کے مریض نے وضو کے بعد پیشاب کیا تو اس کا وضو پیشاب کی وجہ سے ٹوٹ جائے گا۔
حوالہ:
1 ۔ قدوری ، المختصر ، کتاب الطہارۃ ، حکم المستحاضۃ والمعذور، ص : 78