مشکلات سے خالی، پرامن اور اطمینان بخش سفر میں بھی نماز کو قصر ہی کیا جائے گا؟ یہ ایسا سوال ہے جو عام ذہن میں پیدا ہوتا ہے۔ کیونکہ اس دور میں سفری مشکلات وہ نہیں رہی جو پہلے زمانوں میں تھیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ سفر میں قصر ہی کی جائے گی۔ کیونکہ رسول اللہﷺ سے آثار مروی ہیں آپﷺ نے پرامن حالات میں بھی قصر ہی پڑھی ہے۔ کہ جب خوفناک اور پرامن سفر میں ایک ہی حکم ہے تو بالکل مشکل اور آسان سفر میں بھی ایک ہی ہے۔یعلی بن امیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کہ تم کہتے ہو(کہ قرآن کی اس آیت کو بیان فرما کر فتویٰ دیتے ہو)":
" وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ، اِنْ خِفْتُمْ اَنْ يَّفْتِنَكُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔" (1)
ترجمہ: اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم نماز میں قصر کرو (یعنی چار رکعت فرض کی جگہ دو پڑھو) اگر تمہیں اندیشہ ہے کہ کافر تمہیں تکلیف میں مبتلا کردیں گے۔"
اور اللہ نے لوگوں کو امن دے دیا ہے(تو اب بھی یہ حکم باقی ہے کیا)؟تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے ایسا ہی تعجب ہوا تھا جیسا کہ تجھے ہوا، میں نے رسول اللہﷺ سے سوال کیا تو آپﷺ نے فرمایا:
صدقۃ تصدق اللہ بھا علیکم، فاقبلوا صدقتہ۔(2)
یہ اللہ نے تم پر صدقہ کیا ہے، اس کے صدقہ کو قبول کرو۔
اللہ رب العزت نے نماز میں قصر کوحالت خوف سے خاص کیا ہے مگر رسول اللہﷺ نے اسے امن وخوف دونوں حالتوں میں عام کردیا۔ اور جب سفر کی تنگی اور مشکل سے قصر کو خاص ہی نہیں کیا تو تنگی اور مشکل مٹ جانے پر اطمینان بخش اور آرام دہ سفر میں قصر کا حکم ختم کیسے ہوگا؟
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
صلینا مع رسول اللہﷺ بین مکۃ والمدینۃ، ونحن آمنون، لا نخاف بینھما، رکعتین رکعتین۔ (3)
ترجمہ: ہم نے مکہ اور مدینہ کے درمیان رسول اللہﷺ کے ساتھ دو دورکعتیں (قصر)نماز پڑھی حالانکہ ہم امن کی حالت میں تھے ہمیں کوئی خوف نہ تھا۔
ان روایات سے تو یہ ثابت ہواکہ امن واطمینان حکم میں تبدیل کا باعث نہیں بن سکتے۔ اور اس کے بعد دوسری وضاحت یہ ہے کہ بعض صحابہ کرام علیہم الرضوان کا موقف ہی یہ ہے کہ سفر میں نماز کی رکعتیں ہی دو فرض ہیں۔ یعنی اس میں خوف وامن، تنگی وآسانی کا کوئی فرق نہیں۔
امام سیوطی نے سماک الحنفی سے روایت کیا ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سفر کی نماز کے بارے سوال کیاتو انہوں نے فرمایا:
رکعتان تمام غیر قصر۔ (4)
ترجمہ: دو رکعتیں ہی پوری نماز ہے قصر نہیں ہے۔
اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:
فرضت الصلوۃ رکعتین رکعتین، فی السفر والحضر، فاقرت صلوۃ السفر، وزید فی صلوۃ الحضر۔ (5)
ترجمہ: نماز سفر وحضر(حالت اقامت) میں دودورکعتیں فرض ہوئی تھی، پھر سفر کی نماز (دورکعتیں)برقرار رہی، اور حالت اقامت کی نماز بڑھا دی گئی۔
دوسری قسم کی روایات سے خوب واضح ہوگیا کہ قصر کا حکم خوف یا مشکل سے خاص نہیں بلکہ سفر کی نماز ہی دورکعتیں ہیں سوائے مغرب کے، کہ وہ سفر وحضر میں تین ہیں، لہٰذا سفر جتنا بھی آرام دہ اور سکون دہ ہو نماز قصر ہی کی ادا کی جائے گی۔
نصوصِ شرعیہ کی دو اقسام ہیں:
معلول غیر معلول
امام السرخسی فرماتے ہیں:
ان النصوص نوعان: معلول وغیر معلول۔ (6)
ترجمہ: (احکام شرعیہ کی)نصوص دو اقسام کی ہیں: معلول اور غیر معلول۔
معلول ہونے کا مقصد یہ ہے کہ جس علت کی بناء پر حکم لگایا گیا ہے، جب تک وہ علت باقی رہے گی حکم ثابت رہے گا اور جب علت رفع ہوجائے گی تو حکم بھی ساقط ہوجائے گا۔ اور ایسے ہی وہ علت کسی اور جگہ پائی جائے گی تو اس فرع میں بھی وہ حکم ثابت ہوجائے گا، جیسے اس اصل میں تھا۔ جیسے حضور نبی کریمﷺ نے ٹخنے سے نیچے کپڑا لٹکانے کو حرام قرار دیا، اور اس میں خود ہی علت"تکبر" بیان فرمادی۔ (7)
جب لٹکے ہوئے کپڑے میں یہ علت باقی نہیں رہے گی تو حکم بھی اٹھ جائے گا جیسے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اجازت عطا فرمانا۔ (8) اور ایسے ہی جس عمل میں تکبر ہوگا وہ عمل حرام قرار پائے گا۔
مگر زیرِ بحث مسئلہ میں مندرجہ بالا روایات سے واضح ہوگیا کہ قصر الصلوۃ کی نص معلول نہیں ہے۔ جب معلول نہیں کسی چیز کو بھی علت بنا کر اس کے وجود اور عدم وجود کی صورت میں حکم تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔
فتویٰ
کیا پُرامن اور اطمینان بخش سفر میں بھی نمازِ قصر کرنا ضروری ہے؟
نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1 ۔ النساء 101/4
2۔ ابن کثیر، عماد الدین ابوالفداء اسماعیل بن عمر القرشی الدمشقی الشافعی، تاریخ پیدائش: 700ھ، آپ کے شیوخ میں ابوالعباس احمد ابن تیمیہ، حافظ ابوالحجاج یوسف المزی، ابوعبداللہ محمد بن احمد الذھبی، ابن الشحنہ، ابن قاضی شھبہ، ابو اسحٰق ابراہیم الفزاری، محی الدین ابوزکریا یحی الشیبانی کے علاوہ درجنوں اعلام امت کے نام آتے ہیں۔ اور آپ کے تلامذہ میں حافظ علاؤالدین حجی الشافعی، ابن عبدالعز الحنفی، ابوالمحاسن الحسینی، محمد بن الجزری شیخ القراءات شامل ہیں۔ آپ نے تفسیر و اصولہ، حدیث وعلومہ، فقہ واصولہ، تاریخ، اور مناقب میں درجنوں کتب کا ذخیرہ امت کو ہدیہ کیا۔ ان میں تفسیر اور تاریخ کو جو شہرت ملی وہ دیگر تصانیف کو نہیں، بلکہ اعلامِ امت کی تاریخ میں کم کسی کو حاصل ہے۔ حافظ الذہبی آپ کے بارے کہتے ہیں:"الفقیہ، المفتی، المحدث، البارع، فقیہ متفنن، محدث متقن، مفسر نقال" ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:"کان کثیر الاستحضار، حسن المفاکھۃ، سارت تصانیفہ فی البلاد فی حیاتہ، وانتفع الناس بھا بعد وفاتہ" عینی فرماتے ہیں:"کان قدوۃ العلماء والحفاظ، وعمدۃ اھل المعانی والالفاظ، وسمع، وجمع، وصنف، ودرس، وحدث، والف، وکان لہ اطلاع عظیم فی الحدیث والتفسیر والتاریخ، واشتھر بالضبط والتحریر، وانتھی الیہ ریاسۃ علم التاریخ والحدیث والتفسیر ولہ مصنفات عدیدۃ مفیدۃ۔" عینی نے آپ کےلیے صیغہ فاعل کی بجائے مصادر استعمال کے جو فنون میں آپ کے اعلی اور اعظم مقام پر دلیل ہے۔ تاریخ وفات: 774ھ، التفسیر، سورۃ النساء 101/4 ج:2 ،ص:394
السیوطی، الدر المنثور، سورۃ النساء 101/4 ج:4،ص:651
3۔ السیوطی، عبدالرحمن بن الکمال ابی بکر بن محمد الخضیری الأسیوطی، تاریخ پیدائش: رجب 849ھ، آپ خود اپنے بارے "حسن المحاضرۃ" میں فرماتے ہیں:"میں نے زندگی کی ابتداء یتیمی سے کی، آٹھ سال سے کم عمر تھا قرآن مجید حفظ کرلیا۔" اور اسی کتاب کے مطابق سترہ سال کی عمر میں تمام علوم نقلیہ وعقلیہ کی تحصیل کے بعد آپ کو تدریس کی اجازت مل گئی۔ اور اسی سال پہلی کتاب "شرح الاستعاذۃ والبسملۃ"بھی تصنیف کی۔ اور فرمایا:"میں نے سن66ھ(عمرکے سترہویں سال) سے تصنیف کا کام شروع کردیا تھااب میری تالیفات کی تعداد، سوائے ان کے جنہیں دھوڈالا اور ان سے رجوع کرلیا، تین سو ہے"۔آپ نے علوم القرآن میں 37، علوم الحدیث میں 142، علوم الفقہ میں 102، فنون عربیہ میں 37، عقائد، تصوف اور بیان میں 32، تاریخ، سیر اور ادب میں 68 کتب تحریر کی ہیں۔ پھر اس کے بعد مزید تحصیل علم میں مشغول ہوگئے۔ اور اس دوران علم الدین البلقینی، شرف الدین المناوی تقی الدین الشلبی الحنفی، محی الدین الکافیجی، شیخ سیف الدین الحنفی سے استفادہ واستفاضہ کیا۔ شھاب الدین الشامساحی آپ کے ابتدائی مشائخ میں ہیں۔ اور مزید جلال الدین المحلی، کمال الدین ابن الھمام الحنفی، ابوالفضل المیقاتی، تقی الدین الشمنی، احمد بن ابراہیم الکنانی آپ کے مشائخ میں شامل ہیں۔ آپ کے مشائخ میں گیارہ عورتیں بھی شامل ہیں۔ آپ نے فرمایا: "میں نے شام ، حجاز، یمن، ھند، مغرب اور تکرور میں تحصیل علم کےلیے سفر کیے"۔ فرمایا:"میں نے سن71ھ میں فتویٰ دیا اور سن72ھ میں حدیث کی تدریس شروع کردی"۔ فرمایا:"مجھے سات علوم تفسیر، حدیث، فقہ، نحو، معانی، بدیع، بیان میں تبحر حاصل ہے ان کے علاوہ اصول فقہ، جدل، تصریف، انشاء، ترسل، فرائض، قراءات، طب(کہ ان میں بھی مہارت ہے)"۔ اور آپ شاعر بھی تھے۔ تاریخ وفات: ھ، الدر المنثور، سورۃ النساء 101/4 ج:4،ص:653
ابن کثیر، التفسیر، سورۃ النساء 101/4 ج:2 ،ص:397
4۔ ابن کثیر، التفسیر، سورۃ النساء 101/4 ج:2 ،ص:394
السیوطی، الدر المنثور، سورۃ النساء 101/4 ج:4،ص:657
5۔ ابن کثیر، التفسیر، سورۃ النساء 101/4 ج:2 ،ص:396
السیوطی، الدر المنثور، سورۃ النساء 101/4 ج:4،ص:657
6۔ السرخسی، ابوبکر محمد بن احمد بن ابی سھل، تاریخ پیدائش: ،تاریخ وفات: 490ھ، تمھید الفصول فی الاصول الشہیر باسم"اصول السرخسی"، فصل فی تعلیل الاصول، ج: 2،ص:147
7۔ صحیح البخاری، کتاب اللباس، باب: مَن جَرَّ ثوبَه خُيلاء، حدیث نمبر 5784
8۔
2۔ ابن کثیر، عماد الدین ابوالفداء اسماعیل بن عمر القرشی الدمشقی الشافعی، تاریخ پیدائش: 700ھ، آپ کے شیوخ میں ابوالعباس احمد ابن تیمیہ، حافظ ابوالحجاج یوسف المزی، ابوعبداللہ محمد بن احمد الذھبی، ابن الشحنہ، ابن قاضی شھبہ، ابو اسحٰق ابراہیم الفزاری، محی الدین ابوزکریا یحی الشیبانی کے علاوہ درجنوں اعلام امت کے نام آتے ہیں۔ اور آپ کے تلامذہ میں حافظ علاؤالدین حجی الشافعی، ابن عبدالعز الحنفی، ابوالمحاسن الحسینی، محمد بن الجزری شیخ القراءات شامل ہیں۔ آپ نے تفسیر و اصولہ، حدیث وعلومہ، فقہ واصولہ، تاریخ، اور مناقب میں درجنوں کتب کا ذخیرہ امت کو ہدیہ کیا۔ ان میں تفسیر اور تاریخ کو جو شہرت ملی وہ دیگر تصانیف کو نہیں، بلکہ اعلامِ امت کی تاریخ میں کم کسی کو حاصل ہے۔ حافظ الذہبی آپ کے بارے کہتے ہیں:"الفقیہ، المفتی، المحدث، البارع، فقیہ متفنن، محدث متقن، مفسر نقال" ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:"کان کثیر الاستحضار، حسن المفاکھۃ، سارت تصانیفہ فی البلاد فی حیاتہ، وانتفع الناس بھا بعد وفاتہ" عینی فرماتے ہیں:"کان قدوۃ العلماء والحفاظ، وعمدۃ اھل المعانی والالفاظ، وسمع، وجمع، وصنف، ودرس، وحدث، والف، وکان لہ اطلاع عظیم فی الحدیث والتفسیر والتاریخ، واشتھر بالضبط والتحریر، وانتھی الیہ ریاسۃ علم التاریخ والحدیث والتفسیر ولہ مصنفات عدیدۃ مفیدۃ۔" عینی نے آپ کےلیے صیغہ فاعل کی بجائے مصادر استعمال کے جو فنون میں آپ کے اعلی اور اعظم مقام پر دلیل ہے۔ تاریخ وفات: 774ھ، التفسیر، سورۃ النساء 101/4 ج:2 ،ص:394
السیوطی، الدر المنثور، سورۃ النساء 101/4 ج:4،ص:651
3۔ السیوطی، عبدالرحمن بن الکمال ابی بکر بن محمد الخضیری الأسیوطی، تاریخ پیدائش: رجب 849ھ، آپ خود اپنے بارے "حسن المحاضرۃ" میں فرماتے ہیں:"میں نے زندگی کی ابتداء یتیمی سے کی، آٹھ سال سے کم عمر تھا قرآن مجید حفظ کرلیا۔" اور اسی کتاب کے مطابق سترہ سال کی عمر میں تمام علوم نقلیہ وعقلیہ کی تحصیل کے بعد آپ کو تدریس کی اجازت مل گئی۔ اور اسی سال پہلی کتاب "شرح الاستعاذۃ والبسملۃ"بھی تصنیف کی۔ اور فرمایا:"میں نے سن66ھ(عمرکے سترہویں سال) سے تصنیف کا کام شروع کردیا تھااب میری تالیفات کی تعداد، سوائے ان کے جنہیں دھوڈالا اور ان سے رجوع کرلیا، تین سو ہے"۔آپ نے علوم القرآن میں 37، علوم الحدیث میں 142، علوم الفقہ میں 102، فنون عربیہ میں 37، عقائد، تصوف اور بیان میں 32، تاریخ، سیر اور ادب میں 68 کتب تحریر کی ہیں۔ پھر اس کے بعد مزید تحصیل علم میں مشغول ہوگئے۔ اور اس دوران علم الدین البلقینی، شرف الدین المناوی تقی الدین الشلبی الحنفی، محی الدین الکافیجی، شیخ سیف الدین الحنفی سے استفادہ واستفاضہ کیا۔ شھاب الدین الشامساحی آپ کے ابتدائی مشائخ میں ہیں۔ اور مزید جلال الدین المحلی، کمال الدین ابن الھمام الحنفی، ابوالفضل المیقاتی، تقی الدین الشمنی، احمد بن ابراہیم الکنانی آپ کے مشائخ میں شامل ہیں۔ آپ کے مشائخ میں گیارہ عورتیں بھی شامل ہیں۔ آپ نے فرمایا: "میں نے شام ، حجاز، یمن، ھند، مغرب اور تکرور میں تحصیل علم کےلیے سفر کیے"۔ فرمایا:"میں نے سن71ھ میں فتویٰ دیا اور سن72ھ میں حدیث کی تدریس شروع کردی"۔ فرمایا:"مجھے سات علوم تفسیر، حدیث، فقہ، نحو، معانی، بدیع، بیان میں تبحر حاصل ہے ان کے علاوہ اصول فقہ، جدل، تصریف، انشاء، ترسل، فرائض، قراءات، طب(کہ ان میں بھی مہارت ہے)"۔ اور آپ شاعر بھی تھے۔ تاریخ وفات: ھ، الدر المنثور، سورۃ النساء 101/4 ج:4،ص:653
ابن کثیر، التفسیر، سورۃ النساء 101/4 ج:2 ،ص:397
4۔ ابن کثیر، التفسیر، سورۃ النساء 101/4 ج:2 ،ص:394
السیوطی، الدر المنثور، سورۃ النساء 101/4 ج:4،ص:657
5۔ ابن کثیر، التفسیر، سورۃ النساء 101/4 ج:2 ،ص:396
السیوطی، الدر المنثور، سورۃ النساء 101/4 ج:4،ص:657
6۔ السرخسی، ابوبکر محمد بن احمد بن ابی سھل، تاریخ پیدائش: ،تاریخ وفات: 490ھ، تمھید الفصول فی الاصول الشہیر باسم"اصول السرخسی"، فصل فی تعلیل الاصول، ج: 2،ص:147
7۔ صحیح البخاری، کتاب اللباس، باب: مَن جَرَّ ثوبَه خُيلاء، حدیث نمبر 5784
8۔
اصل سوال
کیا پُرامن اور اطمینان بخش سفر میں بھی نمازِ قصر کرنا ضروری ہے؟