واپس فتاویٰ

فتویٰ

قعدہ (نماز میں بیٹھنے) کی مقدار کتنی ہونی چاہیے؟

نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-29 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: نماز مشاہدات: 1

جواب

عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ اِذَا جَلَسَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الْاُوْلَیَیْنِ کَاَنَّہٗ عَلَی الرَّضْفِ۔ (1)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب دو رکعتوں کے بعد بیٹھتے تو ایسے بیٹھتے جیسے گرم پتھر پر تشریف فرما ہوں۔

حوالہ

1۔ ترمذی ، السنن ، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء فی مقدار القعود فی الرکعتین الاولیین ،رقم الحدیث : 334

اصل سوال

قعدہ (نماز میں بیٹھنے) کی مقدار کتنی ہونی چاہیے؟

مزید فتاویٰ جات

نماز کی ابتداء کس طرح کی جائے؟ کیا نماز پڑھنے کے بعد ذکر کرنا سنت ہے؟ کیا سلام پھیرنے کے بعد دعا مانگنا جائز ہے؟ کیا نماز کے آخر میں سلام پھیرنا ضروری ہے؟ کیا نماز میں نبی کریم ﷺ پر درود پڑھنا ضروری ہے؟