مسجد نماز کی جگہ ہے اور نماز میں اہم ترین رکن سجدہ ہے۔ قالین وغیرہ پر نماز کا جواز یا عدم جواز سجدہ سے خاص ہے۔ کیونکہ سجدہ کی تعریف یہ ہے:
وضع الجبھۃ علی الارض۔ (1)
ترجمہ: زمین پر پیشانی کا رکھنا سجدہ ہے۔
کہ جب سجدہ زمین پر پیشانی رکھنا ہے تو قالین وغیرہ سے پیشانی زمین پر نہیں رکھی جاتی۔ اس لیے یہاں جواز و عدم میں ابہام ہے۔جس کی تشریح یہ کہ زمین سے مراد سطح زمین ہے یعنی اگر زمین پر چٹائی یا صف وغیرہ بچھالی جائے تو اس پر پیشانی کا ٹیکنا سجدہ کہلائے گا۔ جس پر دلیل یہ حدیث مبارکہ ہے:
عن ابی سعید رضی اللہ عنہ ان النبیﷺ صلی علی الحصیر۔(2)
ترجمہ: حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے چٹائی پر نماز پڑھی۔
حدثت میمونۃ رضی اللہ عنہا زوج النبیﷺ قالت کان رسول اللہﷺ یصلی علی الخمرۃ۔(3)
ترجمہ: حضرت میمونہ رضی اللہ عنہازوجہ رسول اللہﷺ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ خمرہ پر نماز پڑھا کرتے۔
فتویٰ
کیا قالین پر نماز پڑھنا جائز ہے؟
نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1۔ محمدبن محمد بن محمدبن محمد۔۔۔بن زید بن علی بن الحسین بن علی ابن ابی طالب، رضی اللہ عنہم، الشہیر بسید مرتضیٰ الحسینی الزبیدی، کنیاتہ: ابوالفیض۔ابوالجود۔ابوالوقت۔ آپ کے ہندی، مصری، یمنی اور بغدادی ہونے کی روایات ہیں۔ تاریخ پیدائش: 1145ھ،آپ کے شیوخ میں رضی الدین عبدالخالق المزجاجی، فقیہ ابوعبداللہ محمد ابن شیخ علاؤالدین عبدالباقی المزجاجی، بادرۃ العصر شیخ ابوعبداللہ محمد بن محمد الفاسی، عبدالرحمن العیدروس( ان سے خرقۂ خلافت بھی پایا)، عبداللہ السندھی، عمر بن احمد المکی، اور عبداللہ السقاف شامل ہیں۔ آپ نے تفسیر، حدیث واصول حدیث، فقہ واصول فقہ، تصوف، اخلاقیات، لغت، معاجم ومناقب و تراجم اعلام وغیرہ موضوعات پر 100سے زائد کتب تالیف فرمائی ہیں۔ ان میں زیادہ تعداد کتب حدیث کی ہے اور سب س زیادہ شہرت تاج العروس کو حاصل ہوئی۔ تاریخ وفات: 1205ھ،تاج العروس، باب الدال، ج: 8،ص:172
2۔ ترمذی، الجامع، کتاب الصلوۃ، باب الصلوۃ علی الحصیر، رقم الحدیث:332
3 ۔ ابن ماجۃ، السنن، کتاب الصلوۃ، باب الصلوۃ علی الخمرۃ، رقم الحدیث:1028
2۔ ترمذی، الجامع، کتاب الصلوۃ، باب الصلوۃ علی الحصیر، رقم الحدیث:332
3 ۔ ابن ماجۃ، السنن، کتاب الصلوۃ، باب الصلوۃ علی الخمرۃ، رقم الحدیث:1028
اصل سوال
کیا قالین پر نماز پڑھنا جائز ہے؟