واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا قرآنِ مجید کے غلاف نما جلد (Cover) کو بغیر وضو چھونا جائز ہے؟

عمومی کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-29 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: عمومی مشاہدات: 1

جواب

قرآن مجید کو بغیر طہارت چھونے کی ممانعت میں مصحف قرآنی یعنی اوراق اور جلد دونوں شامل ہیں۔ لہٰذا مصحف قرآنی کو بٖغیر طہارت چھونا جائز نہیں ہے چاہے حدث اصغر ہو یا اکبر ہو۔ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
ولیس لھم مس المصحف الا بغلاف ۔۔۔وکذا المحدث لا یمس المصحف الا بغلافہ۔(1)
اور مصحف کو جنبی اور حائضہ کےلیے بغیر غلاف چھونا جائز نہیں ہے اور اسی طرح سے محدث یعنی بے وضو کےلیے بھی مصحف کو اس کے غلاف کے بغیر چھونا جائز نہیں ہے۔
اس عبارت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وغلافہ مایکون متجافیا عنہ دون ماھو متصل بہ کالجلد المشرز ھو الصحیح۔ (2)
ترجمہ: اور اس کا غلاف وہ ہے جو اس سے الگ ہوجائے نہ کہ جو ملا ہو جیسا کہ بندھی ہوئی جلد اور یہی صحیح ہے۔
اور صاحب قدوری فرماتے ہیں:
ولا یجوز للمحدث مس المصحف الا ان یأخذہ بغلافہ۔ (3)
ترجمہ: اور محدث(اصغر یا اکبر) کےلیے مصحف کو غلاف کے بغیر چھونا جائز نہیں ہے۔
قرآن کو محدث کےلیے غلاف کی حالت میں چھونے کی اجازت ہے تو ایسی جلد جو غلاف نما ہو اس سے چھونا بھی جائز ہے۔ کیونکہ حقیقتا وہ غلاف ہی ہے۔

حوالہ

1۔ المرغینانی،الھدایۃ،کتاب الطھارۃ،باب الحیض والمستحاضۃ،ج:1،ص:62
2۔ المرغینانی،الھدایۃ،کتاب الطھارۃ،باب الحیض والمستحاضۃ،ج:1،ص:63
3 ۔ القدوری ، المختصر ، کتاب الطھارۃ ، باب الحیض و النفاس ، ص:75

اصل سوال

کیا قرآنِ مجید کے غلاف نما جلد (Cover) کو بغیر وضو چھونا جائز ہے؟

مزید فتاویٰ جات

سڑک پر کھڑے پانی کے چھینٹوں سے کیا کپڑے نا پاک ہو جائیں گے؟ سیوریج والے پانی کو فلٹریشن کرنے کے بعد کیا وہ پاک ہو جائے گا؟ کھڑے ہوئے پانی کا کیا حکم ہے؟ وضو کےلیے مساجد میں بنے حوض سے وضو کے احکام اگرحوض کا پانی ماء مستعمل ہوجائےتو کیا اسے ماء مطلق بنایا جاسکتاہے؟