قرآن مجید کو بغیر طہارت چھونے کی ممانعت میں مصحف قرآنی یعنی اوراق اور جلد دونوں شامل ہیں۔ لہٰذا مصحف قرآنی کو بٖغیر طہارت چھونا جائز نہیں ہے چاہے حدث اصغر ہو یا اکبر ہو۔ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
ولیس لھم مس المصحف الا بغلاف ۔۔۔وکذا المحدث لا یمس المصحف الا بغلافہ۔(1)
اور مصحف کو جنبی اور حائضہ کےلیے بغیر غلاف چھونا جائز نہیں ہے اور اسی طرح سے محدث یعنی بے وضو کےلیے بھی مصحف کو اس کے غلاف کے بغیر چھونا جائز نہیں ہے۔
اس عبارت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وغلافہ مایکون متجافیا عنہ دون ماھو متصل بہ کالجلد المشرز ھو الصحیح۔ (2)
ترجمہ: اور اس کا غلاف وہ ہے جو اس سے الگ ہوجائے نہ کہ جو ملا ہو جیسا کہ بندھی ہوئی جلد اور یہی صحیح ہے۔
اور صاحب قدوری فرماتے ہیں:
ولا یجوز للمحدث مس المصحف الا ان یأخذہ بغلافہ۔ (3)
ترجمہ: اور محدث(اصغر یا اکبر) کےلیے مصحف کو غلاف کے بغیر چھونا جائز نہیں ہے۔
قرآن کو محدث کےلیے غلاف کی حالت میں چھونے کی اجازت ہے تو ایسی جلد جو غلاف نما ہو اس سے چھونا بھی جائز ہے۔ کیونکہ حقیقتا وہ غلاف ہی ہے۔
فتویٰ
کیا قرآنِ مجید کے غلاف نما جلد (Cover) کو بغیر وضو چھونا جائز ہے؟
عمومی کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1۔ المرغینانی،الھدایۃ،کتاب الطھارۃ،باب الحیض والمستحاضۃ،ج:1،ص:62
2۔ المرغینانی،الھدایۃ،کتاب الطھارۃ،باب الحیض والمستحاضۃ،ج:1،ص:63
3 ۔ القدوری ، المختصر ، کتاب الطھارۃ ، باب الحیض و النفاس ، ص:75
2۔ المرغینانی،الھدایۃ،کتاب الطھارۃ،باب الحیض والمستحاضۃ،ج:1،ص:63
3 ۔ القدوری ، المختصر ، کتاب الطھارۃ ، باب الحیض و النفاس ، ص:75
اصل سوال
کیا قرآنِ مجید کے غلاف نما جلد (Cover) کو بغیر وضو چھونا جائز ہے؟