اللہ رب العزت نے عام حکم جاری فرمادیا ہے:
لا یمسہ الا المطھرون۔ (1)
ترجمہ: اس قرآن کو صرف پاکیزہ لوگ ہی چھوئیں۔
حکم کی عمومیت یہ ہے کہ چاہے کوئی تلاوت کی غرض سے پکڑنا چاہے، یا کوئی ایک جگہ سے دوسری رکھنے کےلیے پکڑنا چاہتا ہے یا کوئی جلد و بائنڈنگ کی غرض سے یا کسی بھی غرض سے قرآن کو کوئی بھی چھونا چاہتا ہے تو اس کےلیے پہلے طہارت ضروری ہے۔ اس حکم کی عمومیت کو کسی بھی طرح سے خاص نہیں کیا جاسکتا کہ کسی کام کےلیے تو طہارت ضروری ٹھہرے اور کسی کام کےلیے طہارت ضروری نہ ہو۔ اور نہ ہی اس عمومیت میں سے کسی کو خارج کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا جب اللہ تعالیٰ نے فرمادیا کہ قرآن کو صرف وہی چھوئے جو پاکیزہ ہے۔ تو قرآن کی پرنٹنگ اور بائنڈنگ وغیرہ کے تمام مراحل میں جس نے بھی چھونا ہو تو اس کےلیے مطھَّر ہونا ضروری ہے۔
یہاں پر تنگی، مشکل یا ضرورت کا کوئی بھی قاعدہ جاری نہیں کیا جاسکتا کہ اگر ایک شخص سارا دن کام ہی یہی کرتاہے تو اسے ایک دن میں چار پانچ بار ہی وضو کی حاجت پڑسکتی ہے اس سے زائد تو نہیں اور یہ کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ یہ تو ایسے ہی ہے کہ جیسے سارا دن قرآن کی تعلیم حاصل کرنے والے افراد باوضو رہنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ اور خریدوفروخت کرنے والے افراد کےلیے بھی بغیر طہارت قرآن کو چھونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تو جو لوگ ایسے صورتوں میں اجازت دے دیتے ہیں ان پر صرف روشن خیالی کا بھوت سوار ہے یا تحقیق کا جنون۔ کہ یہاں پر کوئی بھی شرعی ضرورت نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے اجازت دے دی جائے۔ گویا کہ اجازت دینا حکم قرآنی میں ذاتی رائے دہی ہے جو باعث غضب ِباری ہے۔
فتویٰ
کیا قرآنِ مجید کی جلد سازی یا اس کی خرید و فروخت کے لیے وضو ضروری ہے؟
عمومی کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1۔ سورۃ الواقعہ (56)، آیت: 79
اصل سوال
کیا قرآنِ مجید کی جلد سازی یا اس کی خرید و فروخت کے لیے وضو ضروری ہے؟