واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا قرآنی آیات والے میڈل کو بغیر وضو چھونا جائز ہے؟

عمومی کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-28 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: عمومی مشاہدات: 1

جواب

قرآن پاک اصل وہ کلام ہے جو رب قدوس نے نازل فرمایا جس چیز پر وہ کلام مقدس تحریر ہوگی وہ چاہے لکڑی ہو، چمڑا ہو، ورق ہو، لوہا ہو یا کوئی بھی چیز ہو مصحف قرآنی کہلائے گا۔سراج الدین ابن نجیم الحنفی علیہ الرحمہ النہر الفائق شرح کنز الدقائق میں فرماتے ہیں:
قولہ تعالیٰ: "لا یمسہ الا المطھرون" (1)بناء ان الجملۃ صفۃ للقرآن یقتضی اختصاص المنع بہ وعم کلامہ اللوح المکتوب والدرھم والحائط لا فرق بین موضع الکتابۃ۔ (2)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کا فرمان:"قرآن کو صرف پاک لوگ ہی چھوئیں" بنیاد ہے اس بات کی یہ جملہ قرآن کی ہی صفت ہےکہ منع کو قرآن کے ساتھ خاص کرنے کا تقاضہ کرتا ہے، اورکلام اللہ تختی، درھم، دیوار وغیرہ پر لکھے ہونے میں عام ہے کہ قرآن جس جگہ بھی لکھا گیا ہو اس میں فرق نہیں ہے۔
اس کےلیے ضروری نہیں کہ پورا قرآن اکٹھا ہی لکھا ہو بلکہ قرآن کا کوئی حصہ لکھاجاتا ہے تو وہ بھی مصحف ہی ہوگا اور اس کا حکم بھی مصحف والا ہے۔ اس پر شاہد یہ ہے کہ صحابہ کرام میں سے اکثر کے پاس قرآن مجید کے مختلف حصے لکھے ہوئے موجود تھے پورا قرآن لکھا نہیں ہوتا تھا لیکن وہ اسے ہی مصحف کہتے تھے۔مصحف قرآنی کو بغیر وضو چھونا جائز نہیں ہےاور مصحف ہونے کےلیے ضروری ہے کہ اس میں اصل قرآن کی تحریر ہو یعنی وہ تابع نہ ہو اور کوئی مکمل آیت تحریر ہو۔ ابن الہمام الحنفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
فکما لا یعد قارئا بما دون الآیۃ حتی لا تصح بھا الصلوۃ کذا لا یعد بہ قارئا فلا یحرم علی الجنب والحائض۔ (3)
ترجمہ: جیسا کہ ایک آیت سے کم پڑھنے والے کو قاری نہیں کہا جائے گا حتی کہ اس سے نماز بھی درست نہیں ہے۔ تو جیسے اسے قاری نہیں کہہ سکتے ایسے ہی یہ جنبی اور حائضہ پر حرام نہیں ہے۔
اس عبارت سے واضح ہوا کہ ایک آیت مکمل تحریر ہو تو اس پر حکم جاری ہوگا اور مکمل آیت سے مراد وہ مقدار نہیں جو دو علامات آیات کے درمیان تحریر ہو بلکہ اس سے مراد وہ جو قرأت فی الصلوۃ میں آیت تصور کی جائے گی۔ مثلا ایک بڑی آیت جسے قرأت صلوۃ میں تین آیات تصور کیا جاتا ہے اس کے تین حصے الگ الگ ایک مکمل آیت تصور ہوں گے۔یعنی جن آیت کے تین حصے جنہیں تین آیات تصور کرکے نماز درست ہوجائے گی وہ اس حکم میں داخل ہوجائیں گے۔
لہٰذا بعض اوقات مختلف مونوگرامز وغیرہ میں آیات لکھی ہوتی ہیں اور ان مونوگرامز کے میڈل بنائے جاتے ہیں اب وہ میڈل اصل میں مصحف نہیں ہے بلکہ مونوگرام ہے۔ کیونکہ وہ آیت یہاں پر تابع ہے اصل نہیں ہے۔ اگر اصل ہوتی تو ایک آیت ہی مصحف کہلاتی۔ لہٰذا اس میڈل کو بغیر وضو چھونا جائز ہوگا لیکن آیت کو بغیر وضو چھونا جائز نہیں ہوگا۔
بغیر طہارت چھونے کی ممانعت مصحف قرآنی کے متعلق ہے اخبارات، کتب اور رسائل وغیرہ میں آیات قرآنی تحریر ہوتی ہیں مگر ان کو بغیر وضو چھونا اس لیے جائز ہوتا ہے کہ وہ مصحف نہیں اور اس تحریر میں اصل قرآن نہیں ہے بلکہ وہ کسی بھی مضمون کے تابع ہے۔ اسی طرح سے اگر تو میڈل بنایا ہی قرآن کی آیت کو تحریر کرنے کےلئے جائے اور اس پر ایک مکمل آیت تحریر بھی ہوتو اس کو بغیر وضو چھونا جائز نہ ہوگا۔ بعض اوقات ایسے ٹکے وغیرہ لوگ گلے میں لٹکاتے ہیں جن پر آیات تحریر ہوتی ہیں اور ان کا مقصد بھی آیت تحریر کرنا ہی ہوتا ہےکہ گلے میں آیت لٹکی رہے گی اب اصل تحریر اس آیت کی ہے جس بناء پر اس کےلیے حکم مصحف والا ہوگا اور اسے بغیر وضو چھونا جائز نہ ہوگا۔

حوالہ

1۔ الواقعہ 79/56
2۔ ابن نجیم، النھر الفائق، کتاب الطھارۃ، باب الحیض، ج: 1 ، ص:134
3۔ ابن ھمام، فتح القدیر، کتاب الطھارۃ، باب الحیض والاستحاضۃ، ج:1،ص:171

اصل سوال

کیا قرآنی آیات والے میڈل کو بغیر وضو چھونا جائز ہے؟

مزید فتاویٰ جات

سڑک پر کھڑے پانی کے چھینٹوں سے کیا کپڑے نا پاک ہو جائیں گے؟ سیوریج والے پانی کو فلٹریشن کرنے کے بعد کیا وہ پاک ہو جائے گا؟ کھڑے ہوئے پانی کا کیا حکم ہے؟ وضو کےلیے مساجد میں بنے حوض سے وضو کے احکام اگرحوض کا پانی ماء مستعمل ہوجائےتو کیا اسے ماء مطلق بنایا جاسکتاہے؟