جو شخص آیت تلاوت سنے تو اس پر سجدہ تلاوت کرنا واجب ہوجاتا ہے اور سجدہ تلاوت سماع سے مشروط ہے۔ علامہ شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
والسماع شرط فی حق غیر التالی۔ (۱)
ترجمہ: تلاوت کرنے والے کے علاوہ کےلئے سننا شرط ہے۔ اور مزید فرماتے ہیں:
فلا تجب علی من لم یسمعھا و ان کان فی مجلس التلاوۃ۔ (۲)
ترجمہ: جو شخص مجلس تلاوت میں تھا مگر اس نے تلاوت نہ سنی تو اس پر سجدہ تلاوت واجب نہیں ہے۔
اور یہ بات تمام کتب فقہ میں واضح ہے کہ سامع کےلئے سماع شرط ہے کہ جب سماع پایا گیا تو سجدہ واجب ہوگیا۔ اس کے بعد فرماتے ہیں:
ان الموجب للسجدۃ احد ثلاثۃ: التلاوۃ، والسماع، والائتمام۔(۳)
ترجمہ: کہ تلاوت، سماع اور اقتداء میں سے کسی ایک کے پائے جانے سے سجدہ تلاوت واجب ہوجاتا ہے۔
کہ تلاوت، سماع اور اقتداء میں سے ہر ایک بذات خود سجدہ کےلیے موجب ہے کہ کسی ایک کا دوسرے پر انحصار نہیں ہے۔ کہ جب تلاوت پائی جائے سماع اور اقتداء ہو یا نہ سجدہ لازم ہو جائے گا اسی طرح سے جب سماع پایا گیا تو بھی سجدہ لازم ہوجائے گا، سماع جس سے بھی ہو کہ کسی انسان کی زبان سے ہو یا آڈیو ویڈیو سے ہو کیونکہ سماع شرط ہے اور وہ جہاں سے بھی ہو جائےاور ایک قاعدہ بیان کرتے ہیں:
لان السامع لیس بتابع للتالی تحقیقا حتی یلزمہ العمل برایہ، لانہ لا شرکۃ بینھما۔(۴)
ترجمہ: تحقیق سے ثابت ہے کہ سامع تالی کے تابع نہیں ہے یہاں تک کہ اس پر عمل اس کی اپنی رائے کی وجہ سے لازم ہوتا ہے اس لیے کہ ان دونوں
کے درمیان کوئی شرکت نہیں ہے۔
لہٰذا یہ جب ثابت ہو گیا کہ سامع تالی کے تابع نہیں کہ اس پر عمل اس کی اپنی ذات پر مبنی ہے، تالی پر انحصار نہیں ہے لہٰذا جب سامع کےلئے سماعت ثابت ہوجائے گی تو سجدہ لازم ہوجائے گا۔
فتویٰ
کیا ریکارڈ شدہ تلاوتِ قرآن سننے سے سجدۂ تلاوت واجب ہوگا؟
عمومی کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
۱۔ شامی ، الرد المحتار ،کتاب الصلوۃ،باب سجود التلاوۃ، ج:2، ص:577
۲۔ شامی ، الرد المحتار،کتاب الصلوۃ،باب سجود التلاوۃ، ج:2، ص:576
۳۔ شامی ، الرد المحتار،کتاب الصلوۃ،باب سجود التلاوۃ، ج:2، ص:577
۴۔ شامی ، الرد المحتار،کتاب الصلوۃ،باب سجود التلاوۃ، ج:2، ص:578
۲۔ شامی ، الرد المحتار،کتاب الصلوۃ،باب سجود التلاوۃ، ج:2، ص:576
۳۔ شامی ، الرد المحتار،کتاب الصلوۃ،باب سجود التلاوۃ، ج:2، ص:577
۴۔ شامی ، الرد المحتار،کتاب الصلوۃ،باب سجود التلاوۃ، ج:2، ص:578
اصل سوال
کیا ریکارڈ شدہ تلاوتِ قرآن سننے سے سجدۂ تلاوت واجب ہوگا؟