واپس فتاویٰ

فتویٰ

رکوع اور سجدہ میں کون سی تسبیحات پڑھی جاتی ہیں؟

نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-29 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: نماز مشاہدات: 1

جواب

عَنْ ابْنِ مَسْعُوْد ٍاَنَّ النَّبِیَّﷺ قَالَ اِذَا رَکَعَ اَحَدُکُمْ فَقَالَ فِی رُکُوْعِہٖ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَدْ تَمَّ رُکُوْعُہٗ وَ ذٰلِکَ اَدْنَاہٗ وَ اِذَا سَجَدَ فَقَالَ فِی سُجُوْدِہٖ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَدْ تَمَّ سُجُوْدُہٗ وَ ذٰلِکَ اَدْنَاہٗ۔ (1)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ایک رکوع کرے تو وہ رکوع میں تین مرتبہ ’’ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ ‘‘ کہے اور یہ سب سے کم تعداد ہے، اور جب سجدہ کرے تو سجدہ میں تین مرتبہ ’’ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلی ‘‘ کہے اور یہ سب سے کم تعداد ہے۔
عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ یَقُوْلُ فِی رُکُوْعِہٖ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ ثَلَاثًا وَ فِی سُجُوْدِہٖ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ ثَلَاثًا۔ (2)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ اپنی (نماز کے) رکوع میں تین بارکہتے سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ اور سجدہ میں تین بار سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلی ٰ فرماتے۔

حوالہ

1 ۔ ترمذی ، السنن ، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء فی التسبیح فی الرکوع و السجود،
رقم الحدیث: 242
2۔ الطحاوی،شرح معانی الآثار ، باب ما ینبغی ان یقال فی الرکوع و السجود، رقم الحدیث : 1382

اصل سوال

رکوع اور سجدہ میں کون سی تسبیحات پڑھی جاتی ہیں؟

مزید فتاویٰ جات

نماز کی ابتداء کس طرح کی جائے؟ کیا نماز پڑھنے کے بعد ذکر کرنا سنت ہے؟ کیا سلام پھیرنے کے بعد دعا مانگنا جائز ہے؟ کیا نماز کے آخر میں سلام پھیرنا ضروری ہے؟ کیا نماز میں نبی کریم ﷺ پر درود پڑھنا ضروری ہے؟