واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا رکوع کے وقت رفعِ یدین کرنا سنت ہے؟

نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-29 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: نماز مشاہدات: 15

جواب

اس بارے میں حضور نبی کریمﷺ سے دو طرح کی روایات موجود ہیں۔
عَنْ سَالِمٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاۃَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ حَتیّٰ یُحَاذِیَ مَنْکِبَیْہِ وَ اِذَا رَکَعَ وَ اِذَا رَفَعَ رَأْسَہٗ مِنَ الرُّکُوْعِ۔ (1)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ جب نماز شروع فرماتے تو ہاتھوں کو کندھوں کے برابر بلند کرتے ، اور جب رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ہاتھوں کو بلند کرتے تھے۔جسے ’’رفع یدین‘‘ کہا جاتاہے۔
عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ قَالَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْد ٍاَلَا اُصَلِّی بِکُمْ صَلَاۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ فَصَلیّٰ فَلَمْ یَرْفَعْ یَدَیْہِ اِلَّا فِی اَوَّلِ مَرَّۃٍ۔ (2)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے فرمایا کیا میں تمہیں رسول اللہﷺ کی نماز جیسی نماز نہ پڑھاؤں؟ پھر انہوں نے نماز پڑھائی اور نماز میں پہلی مرتبہ(تکبیر تحریمہ کے وقت) کے علاوہ ہاتھ بلند نہ کیے۔
یہ مختلف روایات اس لیے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ پہلے ’’رفع یدین‘‘ فرماتے تھے، یعنی رکوع کے وقت ہاتھ اٹھاتے تھے مگر بعد میں آپ نے ایسا کرنا چھوڑ دیا۔لہٰذا احناف کے نزدیک سوائے اول کے رفع یدین نہیں کیا جائے گا۔

حوالہ

1 ۔ ترمذی ، السنن ، کتاب الصلاۃ ، باب ما جاء فی رفع الیدین عند الرکوع ، رقم الحدیث : 237
2۔ ترمذی ، السنن ، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء ان النبیﷺ لم یرفع الا فی اول مرۃ ، رقم الحدیث : 238

اصل سوال

کیا رکوع کے وقت رفعِ یدین کرنا سنت ہے؟

مزید فتاویٰ جات

اگر کسی نے گھڑی یا کیلنڈر کے مطابق نماز پڑھی، پھر معلوم ہوا کہ نماز کا وقت داخل نہیں ہو... کیا ایسے علاقوں میں، جہاں تقریباً چھ ماہ دن یا رات رہتی ہو، ایک دن میں پانچوں نمازیں فر... کیا ایسے علاقے میں، جہاں بعض نمازوں کا وقت ہی نہیں آتا، ان نمازوں کی فرضیت ساقط ہو جائے... تشہد (التحیات) پڑھنے کا طریقہ کیا ہے؟ کیا نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا سنت ہے؟