واپس فتاویٰ

فتویٰ

رکوع میں ہاتھوں کو کہاں رکھا جائے؟

نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-29 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: نماز مشاہدات: 1

جواب

عَنْ اَبِی عَبْدِالرَّحْمٰنِ السَّلْمِیِّ قَالَ قَالَ لَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ اَنَّ الرَّکْبَ سُنَّتْ لَکُمْ فَخُذُوْا بِالرَّکْبِ۔ (1)
ابو عبدالرحمان سلمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ہم سے فرمایا: رکوع میں ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھنا حضور نبی کریمﷺ کی سنت ہے ا س لیے گھٹنوں کو پکڑا کرو۔ یعنی ہاتھ گھٹنوں پر اس انداز میں رکھے جائیں کہ ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑا ہوا ہے۔
قَالَ سَعْدُ بْنُ اَبِی وَقَاصٍ اُمِرْنَا اَنْ نَضَعَ الْاَکَفَّ عَلَی الرَّکْبِ۔ (2)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں (حضور نبی کریمﷺ کی طرف )اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ ہم رکوع میں ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھیں۔
فَقَالَ اَبُو حُمَیْدٍ أَنَا اَعْلَمُکُمْ بِصَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ رَکَعَ فَوَضَعَ یَدَیْہِ عَلٰی رُکْبَتَیْہِ کَاَنَّہٗ قَابِضٌ عَلَیْھِمَا وَ وَتَّرَ یَدَیْہِ فَنَحَّاھُمَا عَنْ جَنْبِہٖ۔ (3)
ابو حمید رضی اللہ عنہ نے (ایک دن ابو اسید ، سھل بن سعد اور محمد بن مسلمہ کے درمیان صلاۃ رسول اللہﷺ پر مذاکرہ کرتے ہوئے) فرمایا: میں تم میں سے رسول اللہﷺ کی نماز کو زیادہ جانتا ہوں حضور نبی کریمﷺ نے (نماز پڑھتے ہوئے) رکوع فرمایا اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھا گویا کہ آپ انہیں مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھے اور آپ نے اپنے ہاتھوں کو پہلووں سے (کمان کی طرح سیدھا رکھتے ہوئے) جدا کیا ہوا تھا۔

حوالہ

1 ۔ ترمذی ، السنن ، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء فی وضع الیدین علی الرکبتین فی الرکوع ، رقم الحدیث : 239
2۔ ترمذی ، السنن ، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء فی وضع الیدین علی الرکبتین فی الرکوع ،رقم الحدیث: 240
3۔ ترمذی، السنن، کتاب الصلوۃ، باب ما جاء انہ یجافی یدیہ عن جنبہ فی الرکوع، رقم : 241
الطحاوی ، شرح معانی الآثار ، باب خفض فی الصلوۃ ھل فیہ تکبیر، رقم :
ابو داؤد ، السنن ، کتاب الصلوۃ ، باب افتتاح الصلوۃ ، رقم الحدیث : 734

اصل سوال

رکوع میں ہاتھوں کو کہاں رکھا جائے؟

مزید فتاویٰ جات

نماز کی ابتداء کس طرح کی جائے؟ کیا نماز پڑھنے کے بعد ذکر کرنا سنت ہے؟ کیا سلام پھیرنے کے بعد دعا مانگنا جائز ہے؟ کیا نماز کے آخر میں سلام پھیرنا ضروری ہے؟ کیا نماز میں نبی کریم ﷺ پر درود پڑھنا ضروری ہے؟