واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا رکوع و سجود میں جاتے اور اٹھتے وقت تکبیر کہنا سنت ہے؟

نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-29 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: نماز مشاہدات: 1

جواب

عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ یُکَبِّرُ فِی کُلِّ خَفْضٍ وَ رَفْعٍ وَ قِیَامٍ وَ قُعُوْدٍ وَ اَبُوْ بَکْرٍ وَ عُمَرَ۔ (1)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ (رکوع و سجود میں )جھکتے ہوئے، اٹھتے ہوئے، قیام کرتے اور قعدہ کرتے(تشہد پر بیٹھتے) ہوئے تکبیر کہا کرتے تھے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
سَالِمُ الْبَرَّادُ قَالَ قَالَ اَبُوْ مَسْعُوْدٍ الْبَدْرِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ اَلَا اُصَلِّی لَکُمْ صَلٰوۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ فَصَلّٰی بِنَااَرْبَعَ رَکْعَاتٍ یُکَبِّرُ فِیْھِنَّ کُلَّمَا خَفَضَ وَ رَفَعَ وَ قَالَ ھٰکَذَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ صَلّٰی۔ (2)
سالم براد کہتے ہیں کہ ابو مسعود البدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول اللہﷺ کی نماز نہ پڑھاؤں تو پھر ہمیں چار رکعات نماز پڑھائی ان رکعات میں جب بھی جھکتے یا اٹھتے تو تکبیر کہتے اور پھر حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ آپ نے ایسے نماز پڑھی۔

حوالہ

1 ۔ ترمذی ، السنن ، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء فی التکبیر عند الرکوع والسجود ، رقم الحدیث : 235
الطحاوی ، شرح معانی الآثار ، باب خفض فی الصلوۃ ھل فیہ تکبیر، رقم الحدیث : 1287
2 ۔ الطحاوی ، شرح معانی الآثار ، باب خفض فی الصلوۃ ھل فیہ تکبیر، رقم الحدیث : 1289

اصل سوال

کیا رکوع و سجود میں جاتے اور اٹھتے وقت تکبیر کہنا سنت ہے؟

مزید فتاویٰ جات

نماز کی ابتداء کس طرح کی جائے؟ کیا سورۂ فاتحہ کے بعد کسی دوسری سورت کی قراءت کرنا ضروری ہے؟ کیا سورۂ فاتحہ کے بعد آمین کہنا سنت ہے؟ کیا نماز پڑھنے کے بعد ذکر کرنا سنت ہے؟ کیا سلام پھیرنے کے بعد دعا مانگنا جائز ہے؟