واپس فتاویٰ

فتویٰ

رکوع، سجدہ، قومہ اور جلسہ کی مقدار کتنی ہونی چاہیے؟

نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-29 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: نماز مشاہدات: 38

جواب

عَنِ الْبَرَّاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ کَانَتْ صَلَاۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ اِذَا رَکَعَ وَ اِذَا رَفَعَ رَأْسَہٗ مِنَ الرُّکُوْعِ وَ اِذَا سَجَدَ وَ اِذَا رَفَعَ رَأْسَہٗ مِنَ السُّجُوْدِ قَرِیْبًا مِنَ السَّوَاءِ۔ (1)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کی نماز میں رکوع کی مقدار، رکوع سے اٹھنے کے بعد قومے کی مقدار، سجدے کی مقدار اور سجدہ سے اٹھنے کے بعد جلسہ کی مقدار تقریباً برابر ہوا کرتی تھی۔

حوالہ

1۔ ترمذی ، السنن ، کتاب الصلوۃ ، باب فی اقامۃ الصلب اذا رفع راسہ من الرکوع والسجود ،رقم : 258

اصل سوال

رکوع، سجدہ، قومہ اور جلسہ کی مقدار کتنی ہونی چاہیے؟

مزید فتاویٰ جات

اگر کسی نے گھڑی یا کیلنڈر کے مطابق نماز پڑھی، پھر معلوم ہوا کہ نماز کا وقت داخل نہیں ہو... کیا ایسے علاقوں میں، جہاں تقریباً چھ ماہ دن یا رات رہتی ہو، ایک دن میں پانچوں نمازیں فر... کیا ایسے علاقے میں، جہاں بعض نمازوں کا وقت ہی نہیں آتا، ان نمازوں کی فرضیت ساقط ہو جائے... تشہد (التحیات) پڑھنے کا طریقہ کیا ہے؟ کیا نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا سنت ہے؟