واپس فتاویٰ

فتویٰ

اگر نماز پڑھ کر سفر شروع کیا اور دورانِ سفر نماز کا نیا وقت داخل ہو جائے، پھر گاڑی اسی نماز کے وقت میں دوسرے علاقے پہنچ جائے، تو نماز کے وقت کے اعتبار میں مقامِ آغازِ سفر یا موجودہ مقام کا اعتبار ہوگا؟

نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-08-19 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: نماز مشاہدات: 16

جواب

کسی نماز کا وقت تھا مسافر نماز پڑھ کر روانہ ہوتا ہے یا گاڑی میں ایک نماز پڑھ لیتا ہے، جانبِ مغرب گاڑی گامزن ہے، گاڑی تیز رفتاری کی وجہ سے کئی علاقے طے کرتی چلی جاتی ہے۔ جہاں سے گاڑی روانہ ہوئی یا جہاں پر نماز پڑھی گئی تھی اس جگہ دوسری نماز کا وقت داخل ہوجاتا ہے مگر گاڑی جہاں اب ہے ابھی اسی نماز کا وقت ہے۔ اس موجودہ علاقہ کا اعتبار کرتے ہوئے نئی نماز اس وقت تک نہیں پڑھے گا جب تک کہ وہاں اس نماز کا وقت آنہ جائے چاہے کئی گھنٹے ہی گزر جائیں۔ کیونکہ نماز کی فرضیت کا سبب وقت ہے:
اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا۔ (1)
ترجمہ: بے شک نماز مؤمنوں پر وقتِ مقررہ پر فرض کی گئی ہے۔
وقت پایا جائے گا تو نماز فرض ہوگی، اور جب تک وقت نہیں آئے گا نماز فرض نہیں ہوگی، نماز فرض نہیں ہوگی تو اسے ادا کرنا لازم نہیں ہوگا۔ اور پہلی نماز بھی دوبارہ نہیں پڑھے گا کیونکہ وہ اس کے درست وقت میں ادا کی جاچکی ہے۔
اور اگر کسی وقت میں سفر اتنا تیز ترین ہوجائے کہ ایک جگہ پر ایک نماز پڑھ کر روانہ ہوں اور دوسری مقام پر اس سے پہلی نماز کے وقت میں پہنچ جائیں۔ مثلاً پاکستان اور مکہ مدینہ کے علاقوں میں تقریباً دوگھنٹے کا فرق ہےکہ پاکستان میں دوگھنٹے وقت پہلے آتا ہے اور مکہ مدینہ میں بعد میں آتا ہے۔ سال میں کچھ دن ایسے بھی آتے ہیں کہ جب مغرب اور عشاء کے اوقات میں تقریباً ایک گھنٹہ اور بیس منٹ کا فرق رہتاہے۔ پاکستان میں اگر مغرب کی نماز پڑھ لی گئی اور مکہ مدینہ میں دوگھنٹے بعد مغرب کا وقت ہوگا، مگر پاکستان میں ایک گھنٹہ اور بیس منٹ بعد عشاء کا وقت بھی آگیا۔ کہ پاکستان میں عشاء کا وقت ہے اور مکہ مدینہ میں ابھی مغرب ہونے میں چالیس منٹ دیر ہے۔ اگر ایسا برق رفتاری کا زمانہ آجائے کہ پاکستان میں نماز مغرب کی ادائیگی کرکے روانہ ہوتا ہے اور سعودیہ میں پہنچتا ہے تو ابھی نماز عصر کا وقت ہے۔ جبکہ نمازِ عصر اور مغرب دونوں درست اوقات میں پڑھ چکا ہے۔ تو کیا کرے؟
نمازِ عصر نہیں پڑھے گا جبکہ مغرب پڑھے گا۔ کیونکہ عصر کی نماز کا سبب اس پر نہیں آیا، جبکہ نمازِ مغرب کا سبب اس پر آیا ہے، کہ جب وہاں پہنچتا ہے تو مغرب کا وقت نیا داخل ہورہاہے۔ لہٰذا جب نیا وقت داخل ہوا تو نیا سبب پایا گیا جب سبب پایا گیا تومسبب بھی پایا جائے گا۔ وقت داخل ہوگیا تو موقّت(نماز) بھی لازم ہوجائے گا۔صاحب نورالانوار بیان کرتے ہیں:
ان تکرار السبب یدل علی تکرار المسبب۔ (2)
ترجمہ: سبب کا تکرار مسبب کے تکرار پر دلالت کرتا ہے۔
مغرب میں تکرار سبب ہورہا ہے جبکہ عصر میں نہیں۔ اگر عصر کے وقت کو بھی سبب تسلیم کرلیا جائے تو عصر پڑھنا بھی لازم ہوگا۔ اور عصر کے وقت کی موجودگی کو سبب نہ ماننے کی وجہ اس بنیاد پر ہے کہ جب ایک نماز اپنے وقت میں ادا کرلی جاتی ہے اس نماز کا وقت موجود تو ہوتا ہے مگر اس وقت میں باربار نماز فرض نہیں ہوتی۔ مگر جب نیا وقت داخل ہوجائے تو نئی نماز کی فرضیت بھی آجاتی ہے۔ لہٰذا سبب نیا وقت بنتا ہے اور وہ مغرب کا وقت ہے نہ کہ عصر کا۔ اور پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ اگر ایک نماز پڑھ کرروانہ ہوں گاڑی مغرب کی سمت گامزن ہے تو ایسا ممکن ہے کہ کئی گھنٹے گاڑی اسی نماز کے وقت میں چلتی رہے، اور جہاں سے روانہ ہوئے تھے وہاں نئی نماز کا وقت داخل ہوچکا ہو،مگر اس نماز کا وقت دوبارہ نیا ہو کر داخل نہیں ہورہا تو وہ نماز دوبارہ فرض بھی نہیں ہوتی۔ تو ایسے ہی اس زیرِ بحث مسئلہ میں عصر کا وقت نیا سبب بن کر نہیں آیا جبکہ مغرب کا وقت نیا سبب بن کر داخل ہورہا ہے۔

حوالہ

1۔ النساء 103/4
2۔ ملاجیون، نورالانوار، فصل الامر لا یقتضی التکرار، ص: 86

اصل سوال

اگر نماز پڑھ کر سفر شروع کیا اور دورانِ سفر نماز کا نیا وقت داخل ہو جائے، پھر گاڑی اسی نماز کے وقت میں دوسرے علاقے پہنچ جائے، تو نماز کے وقت کے اعتبار میں مقامِ آغازِ سفر یا موجودہ مقام کا اعتبار ہوگا؟

مزید فتاویٰ جات

اگر کسی نے گھڑی یا کیلنڈر کے مطابق نماز پڑھی، پھر معلوم ہوا کہ نماز کا وقت داخل نہیں ہو... کیا ایسے علاقوں میں، جہاں تقریباً چھ ماہ دن یا رات رہتی ہو، ایک دن میں پانچوں نمازیں فر... کیا ایسے علاقے میں، جہاں بعض نمازوں کا وقت ہی نہیں آتا، ان نمازوں کی فرضیت ساقط ہو جائے... تشہد (التحیات) پڑھنے کا طریقہ کیا ہے؟ کیا نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا سنت ہے؟