عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّﷺ قَالَ اِذَا سَجَدَ اَحَدُکُمْ فَلْیَبْدَأْ بِرُکْبَتَیْہِ قَبْلَ یَدَیْہِ وَ لَا یَبْرُکْ بُرُوْکَ الْفَحْلِ۔ (1)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ایک سجدہ کرے تو ہاتھوں سے پہلے گھٹنوں کو رکھنے سے ابتداء کرے اور اونٹ کے بیٹھنے کی طرح نہ بیٹھے۔
عَنْ وَائْلِ بْنِ حَجْرٍ قَالَ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ اِذَا سَجَدَ یَضَعُ رُکْبَتَیْہِ قَبْلَ یَدَیْہِ وَاِذَا نَھَضَ رَفَعَ یَدَیْہِ قَبْلَ رُکْبَتَیْہِ۔ (2)
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریمﷺ کو دیکھا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو ہاتھوں سے پہلے گھٹنے رکھتے اور جب سجدہ سے اٹھتے تو گھٹنوں سے پہلے ہاتھوں کو اٹھاتے۔
عَنْ اَبِی حُمَیْدِ السَّاعِدِیِّ اَنَّ النَّبِیِّﷺ کَانَ اِذَا سَجَدَ اَمْکَنَ اَنْفَہٗ وَ جَبْھَتَہٗ مِنَ الْاَرْضِ وَ نَحّٰی یَدَیْہِ عَنْ جَنْبِہٖ وَ وَضَعَ کَفَّیْہِ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ۔ (3)
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضور نبی کریمﷺ سجدہ فرماتے تو ناک اور پیشانی کو زمین پر ٹیک لیتے، ہاتھوں کو پہلووں سے جدا(کھلے اور کشادہ) رکھتے اور ہتھیلیوں کو کندھوں کے برابر رکھتے۔
عَنْ اَبِی اِسْحٰقَ قَالَ قُلْتُ لِلْبَرَّاءِ بْنِ عَازِبٍ أَیْنَ کَانَ النَّبِیُّﷺ یَضَعُ وَجْھَہٗ اِذَا سَجَدَ فَقَالَ بَیْنَ کَفَّیْہِ۔ (4)
حضرت ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ حضور نبی کریمﷺ سجدہ میں اپنا چہرہ کہاں رکھتے تھے؟
تو انہوں نے فرمایا: ہتھیلیوں کے درمیان رکھتے۔
جب تکبیر ہوئے ہاتھ کاندھوں تک اٹھائے جائیں گے سجدہ میں بھی ہاتھ کاندھوں کے برابر رکھے جائیں اور جب تکبیر میں ہاتھ چہرہ اور کانوں کے برابر بلند کیے جائیں گے تو سجدہ کرتے ہوئے بھی ہاتھوں کو چہرہ کے برابر اور چہرہ ہاتھوں کے درمیان رکھا جائے گا۔
عَنِ الْعَبَاسِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ اَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ یَقُوْلُ اِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ سَجَدَ مَعَہٗ سَبْعَۃُ اٰرَابٍ وَجْھُہٗ وَ کَفَّاہٗ وَ رُکْبَتَاہٗ وَ قَدَمَاہٗ۔ (5)
حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریمﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو سات اعضاء اس کے ساتھ سجدہ کرتے ہیں ، (وہ سات اعضاء) ایک چہرہ، دو ہتھیلیاں ، دو گھٹنے اور دو پاؤں ہیں۔یعنی ان سات اعضاء پر سجدہ کرے۔
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ اُمِرَ النَّبِیُّﷺ اَنْ یَّسْجُدَ عَلٰی سَبْعَۃِ اَعْظُمٍ وَ لَا یَکُفَّ شَعْرَہٗ وَ لَا ثِیَابَہٗ۔ (6)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم دیا گیا ہے کہ ساتھ ہڈیوں پر سجدہ کریں(جن کا ذکر اوپر گزر چکاہے)، اور نماز میں کپڑے اور بالوں کو درست کرنے سے منع کیا گیاہے۔
عَنْ جَابِرٍ اَنَّ النَّبِیَّﷺ قَالَ اِذَا سَجَدَ اَحَدُکُمْ فَلْیَعْتَدِلْ وَ لَا یَفْتَرِشْ ذِرَاعَیْہِ اِفْتِرَاشَ الْکَلْبِ۔ (7)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ایک سجدہ کرے تو اعتدال کے ساتھ سجدہ کرے (یعنی نہ زیادہ لمبا اور نہ مختصر) اور بازؤوں کو کتے کی طرح پھیلا نہ دے کہ زمین کے ساتھ ملا دے۔
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ وَقَاصٍ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ النَّبِیَّﷺ اَمَرَ بِوَضْعِ الْیَدَیْنِ وَ نَصْبِ الْقَدَمَیْنِ۔ (8)
حضرت عامر بن سعد فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ نے ہاتھوں کو زمین پر رکھنے اور پاؤں کو کھڑا کرنے کا حکم فرمایا ہے۔
فتویٰ
سجدہ کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1 ۔ الطحاوی ، شرح معانی الآثار ، باب ما یبدأ بوضعہ فی السجود، رقم:1480
2۔ ترمذی، السنن، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء فی وضع الرکبتین قبل الیدین فی السجود،رقم الحدیث:248
3۔ ترمذی ، السنن ، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء فی السجود علی الجبھۃ والانف، رقم الحدیث : 250
4۔ ترمذی ، السنن ، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء این یضع الرجل وجھہ اذا سجد، رقم الحدیث : 251
5۔ ترمذی ، السنن ، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء فی السجود علی سبعۃ اعضاء،رقم الحدیث : 252
6۔ ترمذی ، السنن ، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء فی السجود علی سبعۃ اعضاء ،رقم الحدیث : 253
7۔ ترمذی ، السنن ، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء فی الاعتدال فی السجود ،رقم الحدیث : 255
8۔ ترمذی ، السنن، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء فی وضع الیدین و نصب القدمین فی السجود ، رقم :257
2۔ ترمذی، السنن، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء فی وضع الرکبتین قبل الیدین فی السجود،رقم الحدیث:248
3۔ ترمذی ، السنن ، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء فی السجود علی الجبھۃ والانف، رقم الحدیث : 250
4۔ ترمذی ، السنن ، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء این یضع الرجل وجھہ اذا سجد، رقم الحدیث : 251
5۔ ترمذی ، السنن ، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء فی السجود علی سبعۃ اعضاء،رقم الحدیث : 252
6۔ ترمذی ، السنن ، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء فی السجود علی سبعۃ اعضاء ،رقم الحدیث : 253
7۔ ترمذی ، السنن ، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء فی الاعتدال فی السجود ،رقم الحدیث : 255
8۔ ترمذی ، السنن، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء فی وضع الیدین و نصب القدمین فی السجود ، رقم :257
اصل سوال
سجدہ کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟