واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا سورۂ فاتحہ کے بعد آمین کہنا سنت ہے؟

نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-29 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: نماز مشاہدات: 1

جواب

عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ عَنِ النَّبِیِّﷺ قَالَ اِذَا اَمَّنَ الْاِمَامُ فَاَمِّنُوْا فَاِنَّہٗ مَنْ وَافَقَ تَأْمِیْنُہٗ تَأْمِیْنَ الْمَلَائِکَۃِ غُفِرَلَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔ (1)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا: جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل گئی اس کے سابقہ گناہ بخش دئیے جائیں گے۔

حوالہ

1 ۔ ترمذی ، السنن ، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء فی فضل التامین ، رقم الحدیث : 232

اصل سوال

کیا سورۂ فاتحہ کے بعد آمین کہنا سنت ہے؟

مزید فتاویٰ جات

نماز کی ابتداء کس طرح کی جائے؟ کیا رکوع و سجود میں جاتے اور اٹھتے وقت تکبیر کہنا سنت ہے؟ کیا سورۂ فاتحہ کے بعد کسی دوسری سورت کی قراءت کرنا ضروری ہے؟ کیا سورۂ فاتحہ کے بعد آمین کہنا سنت ہے؟ تسمیہ (بسم اللہ الرحمٰن الرحیم) کے بعد نماز میں کیا پڑھا جائے؟