عَنْ اَبِی سَعِیْدِ الْخُدَرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَمْ یَقْرَأْ بِالْحَمْدُ وَ سُوْرَۃٍ فِی فَرِیْضَۃٍ اَوْ غَیْرِھَا۔ (1)
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا: جس نے فرض یا اس کے علاوہ(سنت و نوافل یا وتر) میں فاتحہ اور اس کے بعد کوئی دوسری سورت نہ پڑھی تو اس کی نماز نہیں ہوئی۔
فتویٰ
کیا سورۂ فاتحہ کے بعد کسی دوسری سورت کی قراءت کرنا ضروری ہے؟
نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1 ۔ ترمذی ، السنن، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء فی تحریم الصلوۃ و تحلیلھا ، رقم: 221
اصل سوال
کیا سورۂ فاتحہ کے بعد کسی دوسری سورت کی قراءت کرنا ضروری ہے؟