واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا سورۂ فاتحہ کے بعد کسی دوسری سورت کی قراءت کرنا ضروری ہے؟

نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-29 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: نماز مشاہدات: 23

جواب

عَنْ اَبِی سَعِیْدِ الْخُدَرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَمْ یَقْرَأْ بِالْحَمْدُ وَ سُوْرَۃٍ فِی فَرِیْضَۃٍ اَوْ غَیْرِھَا۔ (1)
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا: جس نے فرض یا اس کے علاوہ(سنت و نوافل یا وتر) میں فاتحہ اور اس کے بعد کوئی دوسری سورت نہ پڑھی تو اس کی نماز نہیں ہوئی۔

حوالہ

1 ۔ ترمذی ، السنن، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء فی تحریم الصلوۃ و تحلیلھا ، رقم: 221

اصل سوال

کیا سورۂ فاتحہ کے بعد کسی دوسری سورت کی قراءت کرنا ضروری ہے؟

مزید فتاویٰ جات

اگر کسی نے گھڑی یا کیلنڈر کے مطابق نماز پڑھی، پھر معلوم ہوا کہ نماز کا وقت داخل نہیں ہو... کیا ایسے علاقوں میں، جہاں تقریباً چھ ماہ دن یا رات رہتی ہو، ایک دن میں پانچوں نمازیں فر... کیا ایسے علاقے میں، جہاں بعض نمازوں کا وقت ہی نہیں آتا، ان نمازوں کی فرضیت ساقط ہو جائے... تشہد (التحیات) پڑھنے کا طریقہ کیا ہے؟ کیا نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا سنت ہے؟