واپس فتاویٰ

فتویٰ

تکبیرِ تحریمہ کے بعد نماز میں کیا پڑھا جائے؟ عَنْ عَاْئِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّﷺ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاۃَ قَالَ: سُبْحَانَکَ الّٰلھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ وَ تَبَارَکَ اسْمُکَ وَ تَعَالیٰ جَدُّکَ وَ لَا اِلٰہَ غَیْرُکَ۔ (1)حضرت

نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-29 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: نماز مشاہدات: 1

جواب

عَنْ عَاْئِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّﷺ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاۃَ قَالَ: سُبْحَانَکَ الّٰلھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ وَ تَبَارَکَ اسْمُکَ وَ تَعَالیٰ جَدُّکَ وَ لَا اِلٰہَ غَیْرُکَ۔ (1)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ جب نماز شروع فرماتے تو کہتے: سُبْحَانَکَ الّٰلھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ وَ تَبَارَکَ اسْمُکَ وَ تَعَالیٰ جَدُّکَ وَ لَا اِلٰہَ غَیْرُکَ ۔‘‘
عَنْ اَبِی سَعِیْدِ الْخُدَرِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ اِذْا قَامَ اِلٰی الصَّلَاۃِ بِالَّلیْلِ کَبَّرَ ثُمَّ یَقُوْلُ سُبْحَانَکَ الّٰلھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ وَ تَبَارَکَ اسْمُکَ وَ تَعَالیٰ جَدُّکَ وَ لَا اِلٰہَ غَیْرُکَ ثُمَّ یَقُوْلُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا ثُمَّ یَقُوْلُ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہٖ وَ نَفْخِہٖ وَ نَفْثِہٖ۔ (2)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ جب نماز کیلئے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے پھر کہتے: ’’ سُبْحَانَکَ الّٰلھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ وَ تَبَارَکَ اسْمُکَ وَ تَعَالیٰ جَدُّکَ وَ لَا اِلٰہَ غَیْرُکَ ‘‘ پھر کہتے: ’’ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا‘‘ پھر کہتے:’’اَعُوْذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہٖ وَ نَفْخِہٖ وَ نَفْثِہٖ۔‘‘
اور مشہور تعوذ ’’ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ‘‘ قرآن مقدس سے ثابت ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’فَاِذَا قَرَأْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ‘‘ (3)
کہ جب تو قرآن کی قرأت کرنے لگے تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کر لیا کر۔
بعض اوقات مذکورہ بالا روایت کے الفاظ کے اضافے کے ساتھ حضور نبی کریمﷺ تعوذ پڑھا کرتے تھے۔
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا قَالَ کَانَ النَّبِیُّﷺ یَفْتَتِحُ صَلَاتَہٗ بِبِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔(4)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ نماز شروع فرماتے تو بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھتے۔
عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّ النَّبِیَّﷺ کَانَ یُصَلِّی فِی بَیْتِھَا فَیَقْرَأُ: ’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ، الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ، مَالِکِ یِوْمِ الدِّیْنِ ، اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ، اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ ، صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لَا الضَّالِیْنَ۔‘‘ (5)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ گھر میں نماز پڑھتے تو بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ، الاخ پڑھتے تھے۔ یعنی مکمل سورہ فاتحہ تلاوت فرماتے۔
مفہوم احادیث:
سب سے پہلے تکبیر کہے، پھر ثناء(سُبْحَانَکَ الّٰلھُمَّ) پڑھے، پھر تعوذ(اَعُوْذُ بِاللّٰہِ) پڑھے، پھر تسمیہ(بِسْمِ اللّٰہِ) پڑھے، پھر سورہ فاتحہ(اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ) کی تلاوت کرے۔

حوالہ

1 ۔ ترمذی ، السنن ، کتاب الصلوۃ ، باب ما یقول عند افتتاح الصلوۃ ، رقم : 226
2۔ ترمذی ، السنن ، کتاب الصلوۃ ، باب ما یقول عند افتتاح الصلوۃ ، رقم : 225
ابو داود ، السنن ، کتاب الصلوۃ ، باب ما یستفتح بہ الصلوۃ من الدعاء ، رقم : 764
طحاوی ، شرح معانی الآثار ، باب ما یقال فی الصلوۃ بعد تکبیرۃ الافتتاح، رقم الحدیث : 1137
3۔ النحل 16/98
4۔ ترمذی،السنن،کتاب الصلوۃ،باب من رأی الجہر ببسم اللہ،رقم الحدیث: 228
5۔ الطحاوی ، شرح معانی الآثار ، باب قرأت بسم اللہ الخ فی الصلوۃ ، رقم الحدیث : 1151

اصل سوال

تکبیرِ تحریمہ کے بعد نماز میں کیا پڑھا جائے؟

مزید فتاویٰ جات

نماز کی ابتداء کس طرح کی جائے؟ کیا رکوع و سجود میں جاتے اور اٹھتے وقت تکبیر کہنا سنت ہے؟ کیا سورۂ فاتحہ کے بعد کسی دوسری سورت کی قراءت کرنا ضروری ہے؟ کیا سورۂ فاتحہ کے بعد آمین کہنا سنت ہے؟ تسمیہ (بسم اللہ الرحمٰن الرحیم) کے بعد نماز میں کیا پڑھا جائے؟