عَنِ الْبَرَّاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ کَانَ النَّبِیُّﷺ اِذَا کَبَّرَ لِاِفْتِتَاحِ الصَّلٰوۃِ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی یَکُوْنَ اَبْھَاْمَاہٗ قَرِیْبًا مِنْ شَحْمَتَیْ اُذُنَیْہِ۔ (1)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب نماز کے آغاز میں تکبیر کہتے تو ہاتھوں کو بلند کرتے یہاں تک کہ ان کے انگوٹھے
کانوں کی لووں کے قریب ہو جاتے۔
حضرت وائل بن حجر اور مالک بن حویرث رضی اللہ عنہما نے بھی اسی کی مثل روایت کیا ہے۔ (2)
عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ قَالَ کَاْنَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ اِذَا کَبَّرَ لِلصَّلاَۃِ نَشَرَ اَصَاْبِعَہٗ ۔ وَ عَنْہٗ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ اَنَّ النَّبِیَّﷺ اِذَادَخَلَ فِی الصَّلاَۃ ِرَفَعَ یَدَیْہِ مَدًّا۔ (3)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ جب تکبیر کہتے تو انگلیوں کو کشادہ رکھتے۔اور آپ ہی روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ جب نماز میں داخل ہوتے تو اپنے ہاتھوں کو لمبا کر کے اوپر اٹھاتے۔
عَنْ اَبِی حَمِیْدِ السَّاعِدِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ اَنَّہٗ کَانَ یَقُوْلُ لِاَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ اَنَا اَعْلَمُکُمْ بِصَلٰوۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ کَانَ اِذَا قَامَ اِلٰی الصَّلٰوۃِ کَبَّرَ وَ رَفَعَ یَدَیْہِ حِذَاْءَ وَجْہِہٖ۔(4)
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: کہ میں تم سے حضور نبی کریمﷺ کی نماز کو زیادہ جاننے والا ہوں۔ کہ جب حضور نبی کریمﷺ نماز کےلئے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور ہاتھوں کو چہرے کے برابر تک بلند کرتے۔
فتویٰ
کیا تکبیرِ تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھانا سنت ہے؟
نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1 ۔ الطحاوی ، شرح معانی الآثار ، باب رفع الیدین فی افتتاح الصلوۃ ، رقم الحدیث : 1131
2 ۔ الطحاوی،شرح معانی الآثار،باب رفع الیدین فی افتتاح الصلوۃ،رقم الحدیث:1132,1134
3۔ ترمذی ، السنن، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء فی نشر الاصابع عند الکتبیر ، رقم : 222
4۔ الطحاوی ، شرح معانی الآثار ، باب رفع الیدین فی افتتاح الصلوۃ ، رقم الحدیث : 1135
2 ۔ الطحاوی،شرح معانی الآثار،باب رفع الیدین فی افتتاح الصلوۃ،رقم الحدیث:1132,1134
3۔ ترمذی ، السنن، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء فی نشر الاصابع عند الکتبیر ، رقم : 222
4۔ الطحاوی ، شرح معانی الآثار ، باب رفع الیدین فی افتتاح الصلوۃ ، رقم الحدیث : 1135
اصل سوال
کیا تکبیرِ تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھانا سنت ہے؟