واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا ترجمۂ قرآن کو بغیر وضو چھونا جائز ہے؟

عمومی کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-28 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: عمومی مشاہدات: 3

جواب

قرآن مقدس محترم و مکرم کتاب ہے جو کہ اللہ رب العزت کا کلام ہے، اس بنا پر اس کی تکریم کا اہتمام کرنا ہر مسلمان پر لازم اور فرض ہے۔ قرآن مقدس کی تکریم کےلیےاللہ رب العزت قرآن مقدس میں ارشاد فرماتا ہے:
لا یمسہ الا المطہرون۔ (1)
ترجمہ: قرآن کو پاک لوگوں کے علاوہ کوئی نہ چھوئے۔
قرآن مقدس کے عربی الفاظ ہوں یا کسی اور زبان میں ترجمہ ہوقابل احترام ہے۔ احترام کی صورتوں میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر قرآن پاک کو صرف پاکی کی حالت میں چھونے کی اجازت دی ہے۔ کہ الفاظِ قرآن جو کہ خود رب ذوالجلال کا کلام ہیں ان کا احترام کرانے کےلیے یہ حکم فرمایا گیا۔ جو احترام کلام اللہ کا ہے وہ احترام کسی اور کلام کا نہیں ہے۔ اگر قرآن کا ترجمہ کیا جاتا ہے تو وہ کلام رب العالمین نہیں ہےکیونکہ وہ انسان کے الفاظ ہیں اور انسان کا کلام ہے۔ سراج الدین ابن نجیم الحنفی علیہ الرحمہ النہر الفائق شرح کنز الدقائق میں فرماتے ہیں:
قولہ تعالیٰ: "لا یمسہ الا المطھرون" (2) بناء ان الجملۃ صفۃ للقرآن یقتضی اختصاص المنع بہ وعم کلامہ اللوح المکتوب والدرھم والحائط لا فرق بین موضع الکتابۃ۔ (3)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کا فرمان:"قرآن کو صرف پاک لوگ ہی چھوئیں" بنیاد ہے اس بات کی یہ جملہ قرآن کی ہی صفت ہےکہ منع کو قرآن کے ساتھ خاص کرنے کا تقاضہ کرتا ہے، اورکلام اللہ تختی، درھم، دیوار وغیرہ پر لکھے ہونے میں عام ہے کہ قرآن جس جگہ بھی لکھا گیا ہو اس میں فرق نہیں ہے۔
خاص طور پر وضاحت کردی کہ طہارت کے ساتھ چھونے کی فرضیت کا حکم قرآن سے خاص ہے۔ اس لیے ترجمۂ قرآن کا حکم قرآن کے حکم سے مختلف ہے۔ اگر کوئی ترجمۂ قرآن کو بغیر وضو چھوئے تو ناجائز و حرام نہیں ہے لیکن ترجمۂ قرآن کی تکریم بھی لازم ہے تو ترجمۂ قرآن کو چھونے اور پڑھنے کےلیے بھی پاکی بہتر ہے۔

حوالہ

1۔ الواقعہ 79/56
2۔ الواقعہ 79/56
3۔ سراج الدین عمر بن ابراہیم بن محمد الشھیر بابن نجیم الحنفی، آپ علیہ الرحمہ ابن نجیم صاحب البحر والاشباہ کے بھائی ہیں۔ صاحب خلاصۃ الاثر کہتے ہیں:"کہ النھر الفائق ان کےبھائی کی البحر الرائق کے مشابہ ہے لیکن اس سے عبارات کی چھان بین اور مسائل کے نکھار میں البحر سے بلند ہے۔" علاوہ النھر کے "اجابۃ السائل باختصار انفع الوسائل" اور"عقد الجوہر فی الکلام علی سورۃ الکوثر" بھی آپ کی تصانیف ہیں۔ تاریخ وفات: 1005ھ۔النھر الفائق، کتاب الطھارۃ، باب الحیض، ج: 1 ، ص:134

اصل سوال

کیا ترجمۂ قرآن کو بغیر وضو چھونا جائز ہے؟

مزید فتاویٰ جات

سڑک پر کھڑے پانی کے چھینٹوں سے کیا کپڑے نا پاک ہو جائیں گے؟ سیوریج والے پانی کو فلٹریشن کرنے کے بعد کیا وہ پاک ہو جائے گا؟ کھڑے ہوئے پانی کا کیا حکم ہے؟ وضو کےلیے مساجد میں بنے حوض سے وضو کے احکام اگرحوض کا پانی ماء مستعمل ہوجائےتو کیا اسے ماء مطلق بنایا جاسکتاہے؟