عَنِ ابْنِ حَجْرٍ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِیْنَۃَ قُلْتُ لِاَنْظُرَنَّ اِلٰی صَلٰوۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ فَلَمَّا جَلَسَ یَعْنِی لِلتَّشَہُّدِ اِفْتَرَشَ رِجْلَہٗ الْیُسْرٰی وَ وَضَعَ یَدَہٗ الْیُسْرٰی یَعْنِی عَلٰی فَخِذِہٖ وَ نَصَبَ رِجْلَہٗ الْیُمْنٰی۔ (1)
حضرت ابن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ میں آیا (دل میں ) کہاکہ حضور نبی کریمﷺ کی نماز دیکھوں ، جب حضور نبی کریمﷺ تشہد میں بیٹھے تو بایاں پاؤں بِچھا دیا، اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھا (اور دایاں ہاتھ دائیں ران پر) اور دایاں پاؤں کھڑا کردیا۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ النَّبِیَّﷺ کَانَ اِذَا جَلَسَ فِی الصَّلَاۃِ وَضَعَ یَدَہٗ الْیُمْنٰی عَلٰی رُکْبَتِہٖ وَ رَفَعَ اِصْبَعَہٗ الَّتِی تَلِی الْاِبْھَامَ الْیُمْنٰی یَدْعُوْ بِھَا وَ یَدَہٗ الْیُسْرٰی عَلٰی رُکْبَتِہٖ بَاسِطَھَا عَلَیْہِ۔ (2)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ جب نماز میں (تشہد کے وقت) بیٹھتے تھے تو دائیں ہاتھ کو (دائیں ) گھٹنے پر رکھتے اور دائیں انگوٹھے کے ساتھ ملی ہوئی انگلی سے دعا (کےلئے اشارہ) کرتے اور بائیں ہاتھ کو (بائیں ) گھٹنے پر پھیلا کر رکھتے تھے۔
عَنْ عَبْدِاللّٰہِ وَ ھُوَ ابْنُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنْ اَبِیْہِ قَالَ مِنْ سُنَّۃِ الصَّلَاۃِ اَنْ تَنْصِبَ الْقَدَمَ الْیُمْنٰی وَ اِسْتِقْبَالُہٗ بِاَصَابِعِھَا الْقِبْلَۃَ وَالْجُلُوسُ عَلَی الْیُسْرٰی۔ (3)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نماز (میں رسول اللہﷺ کی) سنت یہ ہےکہ تو دائیں پاؤں کو کھڑا کر دے اور اس کی انگلیوں کو قبلہ کی طرف کرے اور بائیں پاؤں پر بیٹھے۔
فتویٰ
تشہد میں بیٹھنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1 ۔ ترمذی،السنن،کتاب الصلوۃ،باب ماجاءکیف الجلوس فی التشہد ،رقم: 269
2۔ ترمذی ، السنن ، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء فی الاشارۃ فی التشہد ،رقم : 271
3۔ نسائی ، السنن ، کتاب التطبیق ، باب الاستقبال اطراف اصابع القدم ، رقم الحدیث : 1157
2۔ ترمذی ، السنن ، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء فی الاشارۃ فی التشہد ،رقم : 271
3۔ نسائی ، السنن ، کتاب التطبیق ، باب الاستقبال اطراف اصابع القدم ، رقم الحدیث : 1157
اصل سوال
تشہد میں بیٹھنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟