عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ وَ اَبُوْبَکَرٍ وَ عُمَرُ وَ عُثْمَانُ یَفْتَتِحُوْنَ الْقِرَاْئَۃَ بِالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ (1)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ، حضرت ابو بکر صدیق ، حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم نماز کی ابتداء میں ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ‘‘ یعنی سورت فاتحہ پڑھتے تھے۔
عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ عَنِ النَّبِیِّﷺ قَالَ لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ۔ (2)
حضرت عبادۃ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا: جس نے فاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز نہیں۔
فتویٰ
تسمیہ (بسم اللہ الرحمٰن الرحیم) کے بعد نماز میں کیا پڑھا جائے؟
نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1 ۔ ترمذی ، السنن ، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء فی افتتاح القرأۃ ب الحمد للہ ، رقم : 229
2۔ ترمذی ، السنن، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء لا صلوۃ الا بفاتحۃ الکتاب ، رقم: 230
2۔ ترمذی ، السنن، کتاب الصلوۃ ، باب ما جاء لا صلوۃ الا بفاتحۃ الکتاب ، رقم: 230
اصل سوال
تسمیہ (بسم اللہ الرحمٰن الرحیم) کے بعد نماز میں کیا پڑھا جائے؟