فتویٰ
کیا ٹشو پیپر سے استنجاء (طہارت) کرنا جائز ہے؟
عمومی کے موضوع پر شرعی رہنمائی
سوال
کیا ٹشو پیپر سے استنجاء (طہارت) کرنا جائز ہے؟
جواب
یہ بات مختلف مسائل کے تحت وضاحت سے بیان ہوگئی ہے کہ نجاست حقیقیہ کو زائل کرنا ہی اس کی طہارت ہے۔ چاہے وہ کسی بھی چیز سے ہو۔ ٹشو وغیرہ سے نجاست کو رگڑ کر زائل کرنا پاک کردے گا۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ جب تک نجاست مخرج سے پھیلی نہ ہو تو اس وقت تک مٹی کے دھیلے یا کسی بھی زائل کرنے والی چیز سے استنجاء کرنا جائز ہے صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
یجوز فیہ الحجر و ما قام مقامہ یمسحہ حتی ینقیہ۔ (1)
ترجمہ: مٹی کے دھیلے اور اس کے قائم مقام کسی چیز سے استنجاء کرنا جائز ہے اسے اتنا رگڑے کہ صفائی ہو جائے۔
ایسا ٹشو جو مکمل صفائی کردے تو اس سے استنجاء کرنا جائز ہوگا جب تک کہ نجاست پھیلی نہ ہو اور کتب فقہ میں ہڈی، گوبر یا کھانے کی اشیاء سے استنجاء کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سے نہیں ان مخصوص چیزوں سے استنجاء کرنے میں ممانعت سے ہی واضح ہے کہ پانی کے علاوہ استنجاء کو مٹی کے ساتھ خاص نہیں کیا گیا۔ لہٰذاٹشو وغیرہ سے طہارت جائز ہے،لیکن اگر نجاست پھیل جائے تو پانی لازمی ہے۔ اور وہ تو دھیلے میں بھی یہی حکم ہے۔ یعنی دھیلا اور ٹشو اس حوالہ سے برابر ہیں۔
حوالہ;
1 ۔ المرغینانی ، ہدایۃ ، کتاب الطھارۃ ، فصل فی الاستنجاء ، ج:1 ، ص : 74
یجوز فیہ الحجر و ما قام مقامہ یمسحہ حتی ینقیہ۔ (1)
ترجمہ: مٹی کے دھیلے اور اس کے قائم مقام کسی چیز سے استنجاء کرنا جائز ہے اسے اتنا رگڑے کہ صفائی ہو جائے۔
ایسا ٹشو جو مکمل صفائی کردے تو اس سے استنجاء کرنا جائز ہوگا جب تک کہ نجاست پھیلی نہ ہو اور کتب فقہ میں ہڈی، گوبر یا کھانے کی اشیاء سے استنجاء کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سے نہیں ان مخصوص چیزوں سے استنجاء کرنے میں ممانعت سے ہی واضح ہے کہ پانی کے علاوہ استنجاء کو مٹی کے ساتھ خاص نہیں کیا گیا۔ لہٰذاٹشو وغیرہ سے طہارت جائز ہے،لیکن اگر نجاست پھیل جائے تو پانی لازمی ہے۔ اور وہ تو دھیلے میں بھی یہی حکم ہے۔ یعنی دھیلا اور ٹشو اس حوالہ سے برابر ہیں۔
حوالہ;
1 ۔ المرغینانی ، ہدایۃ ، کتاب الطھارۃ ، فصل فی الاستنجاء ، ج:1 ، ص : 74