واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا ٹشو پیپر سے استنجاء (طہارت) کرنا جائز ہے؟

عمومی کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-24 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: عمومی مشاہدات: 2

سوال

کیا ٹشو پیپر سے استنجاء (طہارت) کرنا جائز ہے؟

جواب

یہ بات مختلف مسائل کے تحت وضاحت سے بیان ہوگئی ہے کہ نجاست حقیقیہ کو زائل کرنا ہی اس کی طہارت ہے۔ چاہے وہ کسی بھی چیز سے ہو۔ ٹشو وغیرہ سے نجاست کو رگڑ کر زائل کرنا پاک کردے گا۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ جب تک نجاست مخرج سے پھیلی نہ ہو تو اس وقت تک مٹی کے دھیلے یا کسی بھی زائل کرنے والی چیز سے استنجاء کرنا جائز ہے صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
یجوز فیہ الحجر و ما قام مقامہ یمسحہ حتی ینقیہ۔ (1)
ترجمہ: مٹی کے دھیلے اور اس کے قائم مقام کسی چیز سے استنجاء کرنا جائز ہے اسے اتنا رگڑے کہ صفائی ہو جائے۔
ایسا ٹشو جو مکمل صفائی کردے تو اس سے استنجاء کرنا جائز ہوگا جب تک کہ نجاست پھیلی نہ ہو اور کتب فقہ میں ہڈی، گوبر یا کھانے کی اشیاء سے استنجاء کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سے نہیں ان مخصوص چیزوں سے استنجاء کرنے میں ممانعت سے ہی واضح ہے کہ پانی کے علاوہ استنجاء کو مٹی کے ساتھ خاص نہیں کیا گیا۔ لہٰذاٹشو وغیرہ سے طہارت جائز ہے،لیکن اگر نجاست پھیل جائے تو پانی لازمی ہے۔ اور وہ تو دھیلے میں بھی یہی حکم ہے۔ یعنی دھیلا اور ٹشو اس حوالہ سے برابر ہیں۔
حوالہ;
1 ۔ المرغینانی ، ہدایۃ ، کتاب الطھارۃ ، فصل فی الاستنجاء ، ج:1 ، ص : 74

مزید فتاویٰ جات

سڑک پر کھڑے پانی کے چھینٹوں سے کیا کپڑے نا پاک ہو جائیں گے؟ سیوریج والے پانی کو فلٹریشن کرنے کے بعد کیا وہ پاک ہو جائے گا؟ کھڑے ہوئے پانی کا کیا حکم ہے؟ وضو کےلیے مساجد میں بنے حوض سے وضو کے احکام اگرحوض کا پانی ماء مستعمل ہوجائےتو کیا اسے ماء مطلق بنایا جاسکتاہے؟