فتویٰ
کیا ٹائلٹ پیپر کا استعمال جائز ہے؟استنجاء (طہارت)
عمومی کے موضوع پر شرعی رہنمائی
سوال
کیا ٹائلٹ پیپر کا استعمال جائز ہے؟استنجاء (طہارت)
جواب
پانی کی جگہ پر صفائی کےلیے ٹائلٹ پیپر کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ ٹائلٹ پیپر یا اوپر بیان کردہ ٹشو کے ساتھ صفائی حاصل کرنا اس وقت جائز ہے جب نجاست مخرج سے متجاوز(پیشاب کی جگہ س پھیلی نہ ہو) نہ ہوئی ہو۔کیونکہ اگر مخرج سے متجاوز ہو جائے تو پانی سے استنجاء کرنا لازمی ہوتا ہے۔ وقایہ میں فرماتے ہیں:
ویجب الغسل فی نجس جاوز المخرج اکثر من درھم۔ (1)
ترجمہ: اور جب نجاست درہم کی مقدار مخرج سے تجاوز کرجائے تو دھونا واجب ہوجاتا ہے۔
اس کی شرح میں صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
ھذا مذھب ابی حنیفۃ و ابی یوسف وھو ان یکون ما تجاوز اکثر من قدر درھم، وعند محمد یعتبر ما تجاوز المخرج مع موضع الاستنجاء۔ (2)
ترجمہ: یہ امام ابوحنیفہ اور ابویوسف علیہما الرحمہ کا مذہب ہے کہ جو نجاست درہم کی مقدار سے تجاوز کرجائے(وہاں پانی سے دھونا لازم ہے) اور امام محمد فرماتے ہیں کہ مخرج سے جتنا بھی تجاوز کرے گی (اس پر پانی سے دھونا ہی لازم ہے) استنجاء کی جگہ کو بھی شامل ہے(یعنی اگر کچھ بھی تجاوز نہ کرے تو بھی دھونا ہی لازم ہے)۔
جمہور فقہاء حنفیہ کے نزدیک درہم کی مقدار تک دھونا لازم نہیں ہے اور اس سے زیادہ کو دھونا لازم ہے۔لہٰذا درہم سے کم مقدار میں ٹشو اور ٹائلٹ پیپر وغیرہ سے طہارت جائز ہے۔
حوالہ جات:
1۔ برھان الشریعۃ محمود ابن صدر الشریعۃ الاکبر الاحمد بن۔۔۔۔۔بن عبادۃ بن الصامت الصحابی الانصاری ، آپ نے وقایہ کے علاوہ واقعات اور فتاویٰ بھی تحریر کی ہیں۔ بعض نے شرح ہدایہ اور معراج الدرایۃ کی نسبت بھی آپ کی طرف کی ہے۔ علامہ کفوی آپ کے بارے کہتے ہیں: "عالم فاضل، نحریر کامل، بحر زاخر، حبر فاخر، بارع متورع، محقق مدقق، صاحب تصانیف الجلیلۃ"۔تاریخ وفات: 673ھ، وقایۃ الروایۃ فی مسائل الھدایۃ مع شرحہ للصدر الشریعۃ، کتاب الطھارۃ، فصل فی الاستنجاء، ج:1،ص:102
2۔ صدر الشریعۃ عبیداللہ بن مسعود بن عمر تاج الشریعۃ ابن صدر الشریعۃ الاکبر بن۔۔۔بن عبادۃ بن الصامت الانصاری الصحابی، المحبوبی الحنفی، علامہ کفوی آپ کے بارے کہتے ہیں:"ھو الامام المتفق علیہ، والعلامۃ مختلف الیہ، حافظ قوانین الشریعۃ، ملخص مشکلات الفرع والاصل، شیخ الفروع والاصول، عالم المعقول والمنقول، فقیہ اصول، خلافی جدلی، محدث مفسر، نحوی لغوی، ادیب نظار متکلم منطقی، عظیم القدر جلیل المحل، کثیر العلم یضرب بہ المثل، غذی بالعلم والادب، وارث المجد عن اب فاب"۔ اور ایسا ہی ملا علی قاری، تفتازانی اور دیگر نے آپ کا تعارف کرایا ہے۔ آپ نے تنقیح الاصول، التوضیح فی حل غوامض التنقیح، المقدمات الاربع، شرح الوقایۃ، النقایۃ، الشروط المحاضر، تعدیل العلوم، شرح الفصول الخمسین، الوشاح فی المعانی والبیان، الاربعون حدیثا، کتب تحریر کی ہیں۔ ان میں ہر ایک بلند پایہ کی ہے۔تاریخ وفات:747ھ۔ شرح وقایۃ، کتاب الطھارۃ، فصل فی الاستنجاء،ج: 1، ص:102
ویجب الغسل فی نجس جاوز المخرج اکثر من درھم۔ (1)
ترجمہ: اور جب نجاست درہم کی مقدار مخرج سے تجاوز کرجائے تو دھونا واجب ہوجاتا ہے۔
اس کی شرح میں صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
ھذا مذھب ابی حنیفۃ و ابی یوسف وھو ان یکون ما تجاوز اکثر من قدر درھم، وعند محمد یعتبر ما تجاوز المخرج مع موضع الاستنجاء۔ (2)
ترجمہ: یہ امام ابوحنیفہ اور ابویوسف علیہما الرحمہ کا مذہب ہے کہ جو نجاست درہم کی مقدار سے تجاوز کرجائے(وہاں پانی سے دھونا لازم ہے) اور امام محمد فرماتے ہیں کہ مخرج سے جتنا بھی تجاوز کرے گی (اس پر پانی سے دھونا ہی لازم ہے) استنجاء کی جگہ کو بھی شامل ہے(یعنی اگر کچھ بھی تجاوز نہ کرے تو بھی دھونا ہی لازم ہے)۔
جمہور فقہاء حنفیہ کے نزدیک درہم کی مقدار تک دھونا لازم نہیں ہے اور اس سے زیادہ کو دھونا لازم ہے۔لہٰذا درہم سے کم مقدار میں ٹشو اور ٹائلٹ پیپر وغیرہ سے طہارت جائز ہے۔
حوالہ جات:
1۔ برھان الشریعۃ محمود ابن صدر الشریعۃ الاکبر الاحمد بن۔۔۔۔۔بن عبادۃ بن الصامت الصحابی الانصاری ، آپ نے وقایہ کے علاوہ واقعات اور فتاویٰ بھی تحریر کی ہیں۔ بعض نے شرح ہدایہ اور معراج الدرایۃ کی نسبت بھی آپ کی طرف کی ہے۔ علامہ کفوی آپ کے بارے کہتے ہیں: "عالم فاضل، نحریر کامل، بحر زاخر، حبر فاخر، بارع متورع، محقق مدقق، صاحب تصانیف الجلیلۃ"۔تاریخ وفات: 673ھ، وقایۃ الروایۃ فی مسائل الھدایۃ مع شرحہ للصدر الشریعۃ، کتاب الطھارۃ، فصل فی الاستنجاء، ج:1،ص:102
2۔ صدر الشریعۃ عبیداللہ بن مسعود بن عمر تاج الشریعۃ ابن صدر الشریعۃ الاکبر بن۔۔۔بن عبادۃ بن الصامت الانصاری الصحابی، المحبوبی الحنفی، علامہ کفوی آپ کے بارے کہتے ہیں:"ھو الامام المتفق علیہ، والعلامۃ مختلف الیہ، حافظ قوانین الشریعۃ، ملخص مشکلات الفرع والاصل، شیخ الفروع والاصول، عالم المعقول والمنقول، فقیہ اصول، خلافی جدلی، محدث مفسر، نحوی لغوی، ادیب نظار متکلم منطقی، عظیم القدر جلیل المحل، کثیر العلم یضرب بہ المثل، غذی بالعلم والادب، وارث المجد عن اب فاب"۔ اور ایسا ہی ملا علی قاری، تفتازانی اور دیگر نے آپ کا تعارف کرایا ہے۔ آپ نے تنقیح الاصول، التوضیح فی حل غوامض التنقیح، المقدمات الاربع، شرح الوقایۃ، النقایۃ، الشروط المحاضر، تعدیل العلوم، شرح الفصول الخمسین، الوشاح فی المعانی والبیان، الاربعون حدیثا، کتب تحریر کی ہیں۔ ان میں ہر ایک بلند پایہ کی ہے۔تاریخ وفات:747ھ۔ شرح وقایۃ، کتاب الطھارۃ، فصل فی الاستنجاء،ج: 1، ص:102