واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنے سے سنتِ مسواک ادا ہو جائے گی؟

عمومی کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-24 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: عمومی مشاہدات: 1

سوال

کیا ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنے سے سنتِ مسواک ادا ہو جائے گی؟

جواب

مسواک منہ کی صفائی کا ذریعہ ہے جو کہ حقیقت میں رب تعالیٰ کی رضا کا وسیلہ ہے کیونکہ جتنی پاکیزگی کے ساتھ رب ذوالجلال کی توصیف کی جائے گی خشوع و خضوع میں اتنا ہی اضافہ ہوگا۔ جس سے کمال عبادت حاصل ہوگی تو رضائے الٰہی نصیب ہوگی اسی لیے رسول اللہﷺ نے فرمایا:
السواک مطھرۃ للفم و مرضاۃ للرب۔(1)
ترجمہ: مسواک منہ کی پاکیزگی کا آلہ اور رب ذوالجلال کی رضا کا ذریعہ ہے۔
اسی لیے رسول اللہﷺ نے اس پاکیزہ عمل کو ساری زندگی اپنی سنت بنائے رکھا اور امت کو ترغیب بھی دی۔ ایسی سنت کی ادائیگی کا حسن و کمال یہی ہے کہ جیسے رسول اللہﷺ نے ادا کی ہے ویسا ہی ادا کی جائے۔ لیکن احکام میں صرف مخصوص طریقہ کو ہی درست قرار نہیں دیا گیا بلکہ اس عمل کے ورود(یعنی جن طریقوں سے یہ عمل سرانجام دیا جاسکتا ہے) کو عام بھی خود رسول اللہﷺ نے ہی فرمادیا۔ جس وجہ سے ٹوتھ پیسٹ سے بھی سنت مسواک ادا ہو جائے گی مگر مسواک افضل و اعلی ہے۔
عن انس عن النبیﷺ قال: تجزئ من السواک الاصابع۔(2)
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:تجھے مسواک کی جگہ انگلی کافی ہے۔
حضور نبی کریمﷺ کا مسواک کی جگہ انگلی کو کافی قرار دینا اس طرف اشارہ ہے کہ سنتِ مسواک، مسواک کے علاوہ سے بھی ادا ہوجاتی ہے۔ کہ اس حدیث سے واضح ہوگیا کہ مسواک کا حکم صرف اپنے مورد پر بند نہیں ہے۔ لہذا جب مسواک کی جگہ انگلی کفایت کر جائے تو انگلی کے علاوہ کوئی چیز جو دانتوں کی صفائی کےلیے استعمال کی جائے مثلا ً ٹوتھ پیسٹ وغیرہ بھی کفایت کر جائے گی۔ اور امام نووی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
بای شئ استاک مما یقلع القلح و یزیل التغیر کا الخرقۃ الخشنۃ و غیرہا اجزأہ لانہ یحصل بہ المقصود۔(3)
ہر ایسی چیز جو دانتوں کی زردی اور تغیر کو زائل کردے اس سے مسواک کرنا کافی ہے اس لیے کہ اس سے مقصود حاصل ہو جاتا ہے۔
مسواک کی افضلیت و اکملیت اپنی جگہ مسلّم ہے مگر اس افضلیت سے دیگر اشیاء کی نفی بھی تو نہیں ہے۔ لہٰذا ٹوتھ پیسٹ سے سنتِ مسواک کی ادائیگی ہو جائے گی لیکن مسواک افضل ہے۔
حوالہ جات:
1۔ النسائی، السنن، کتاب الطھارۃ، الترغیب فی السواک، رقم الحدیث:4
2۔ ابو بکر احمد بن الحسین بن علی البیہقی، تاریخ پیدائش:شعبان384ھ، فقیہ، اصولی، محدث، صوفی اور حفظ وضبط حدیث میں ثانی نہیں رکھتے۔ 150سے زائد آپ کے شیوخ کے نام گنے جاتے ہیں اور ان کے احوال معلوم ہیں جبکہ کل تعداد کہیں زیادہ ہے۔آپ مذہباً شافعیت کے پیروکار ہیں۔علم العقائد میں اشعریت کی پیروی کی۔ تمام ائمہ حدیث وفقہ اور اجلہ علماء و زعماء علم و عمل کاپیکر ہوتے، مگر علامہ بیہقی کا تقویٰ، زھدوورع، خشیت الٰہی اور عفت و پاکیزگی جیسے اوصاف خصوصاً علماء میں مشہور ہیں۔ علامہ ذہبی کہتے ہیں: آپ نے تیس سال تک لگاتار روزے رکھے۔ آپ نے فقہ، حدیث، تفسیر، عقائد، زھد، خشیت، انذارو تبشیر، فضائل و مناقب اور ترغیب و ترہیب پر کتب تحریر کی ہیں۔ آپ نے اس کتاب کو مکمل کرنے پر 27سال کا عرصہ لگایا، علامہ ذہبی کہتے ہیں:" کتب شریعت میں بنیادی اور امہات چار کتب میں سے ایک یہ ہے، السنن الکبیر للبیہقی، المغنی لابن قدامہ، محلی لابن حزم اور تمہید لابن عبدالبریہ کتب علم کی بنیادی اور جہاں میں معتبر و مستند شمار کی جانے والی ہیں، جس نے ان مجموعات کو حاصل کرلیا اور وہ ذہین مفتیوں میں سے تھا، اور ہمیشہ ان کا مطالعہ کرتا رہا تو وہ سچا عالم ہے۔" تاریخ وفات:458ھ ۔السنن الکبیر ، کتاب الطہارۃ ، باب الاستیاک بالاصابع ، ج:1 ، ص : 124 ، رقم الحدیث : 179
3۔ ابو اسحاق ابراہیم بن علی بن یوسف الفیروزآبادی الشیرازی، تاریخ پیدائش:393ھ،بیضاوی، جزری اور ابن سریج سے استفادۂ خاص کیا۔ آپ فقہ شافعیت کے مضبوط عالم ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میں جب بھی کوئی قیاس کرتا ہوں تو اسے ایک ہزار بار دہراتا ہوں جب اتنا دہرا لتا تو دوسرے قیاس کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔ آپ نے اپنی زندگی میں فقر کو اختیار کیا اور زاہدانہ زندگی گزاری۔ تاریخ وفات:بدھ جمادی الاخریٰ 476ھ۔آپ اس کتاب کی جب بھی ایک فصل لکھ لیتے تو اس کے بعد دو رکعات نفل ادا کرتے۔ اس کتاب کی شروحات، تعلیقات، تخریجات اور تلخیصات وغیرہ کا کام شرف الدین نووی، جلال الدین السیوطی، ابن ملقن، تقی الدین السبکی کے علاوہ درجنوں نے فقہاء نے کیا ہے جس سے کتاب کی جلالت و شان واضح ہے۔ المھذب فی فقہ الشافعی ، کتاب الطہارۃ ، باب السواک ، ص : 34

مزید فتاویٰ جات

سڑک پر کھڑے پانی کے چھینٹوں سے کیا کپڑے نا پاک ہو جائیں گے؟ سیوریج والے پانی کو فلٹریشن کرنے کے بعد کیا وہ پاک ہو جائے گا؟ کھڑے ہوئے پانی کا کیا حکم ہے؟ وضو کےلیے مساجد میں بنے حوض سے وضو کے احکام اگرحوض کا پانی ماء مستعمل ہوجائےتو کیا اسے ماء مطلق بنایا جاسکتاہے؟