واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا ٹرین میں نماز پڑھنا جائز ہے؟

نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-08-19 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: نماز مشاہدات: 12

جواب

ٹرین بھی بس کی مثل ایک ٹرانسپورٹل گاڑی ہے، جو اپنے مقررہ وقت پر مقررہ سٹیشن سے روانہ ہوتی ہے اور مقررہ وقت پر مقررہ سٹیشن پر سٹاپ کرتی ہے۔ جس میں مسافر کو مقررہ سٹیشن پر پہنچنے سے پہلے اترنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ لہٰذا اگر ٹرین میں نماز کا وقت ہو جائے تو ٹرین میں ہی نماز پڑھ لینے کی اجازت ہے۔ اور اس میں نماز کا بالکل وہی طریقہ ہے جو کہ بس میں ہے کیونکہ میں اس میں بھی سجدہ کرنے کی جگہ نہیں ہوتی اور قیام کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھ سکتا ہے۔

اصل سوال

کیا ٹرین میں نماز پڑھنا جائز ہے؟

مزید فتاویٰ جات

اگر کسی نے گھڑی یا کیلنڈر کے مطابق نماز پڑھی، پھر معلوم ہوا کہ نماز کا وقت داخل نہیں ہو... کیا ایسے علاقوں میں، جہاں تقریباً چھ ماہ دن یا رات رہتی ہو، ایک دن میں پانچوں نمازیں فر... کیا ایسے علاقے میں، جہاں بعض نمازوں کا وقت ہی نہیں آتا، ان نمازوں کی فرضیت ساقط ہو جائے... تشہد (التحیات) پڑھنے کا طریقہ کیا ہے؟ کیا نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا سنت ہے؟