سواری پر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ پہلے اس مسئلہ کی وضاحت ضروری ہے اور یہ کہ نفل اور فرض دونوں جائز ہیں یا صرف نفل؟ المحیط البرھانی میں سواری پر نفل نماز کے جواز کی تفصیلی وضاحت کے بعد فرماتے ہیں:
ولا یصلی المسافر المکتوبۃ علی الدابۃ الا من ضرورۃ، لان المکتوبۃ فی اوقات مخصوصۃ لا یشق علیہ النزول لاداءھا، بخلاف التطوع، فانہ لیس بشیء موقت، فلو الزمناہ النزول لاداءھا تعذر علیہ اداءما نشط من التطوعات، او انقطع سفرہ۔(1)
ترجمہ: اور مسافر(یعنی مقیم کےلیے تو کسی صورت بھی فرض کی ادائیگی سواری پر جائز نہیں ہے اس لیے مسافر کو خطاب کیا کہ وہ) فرض نماز سواری پر سوائے ضرورت کے نہ پڑھے، اس لیے کہ وہ مخصوص اوقات میں فرض کی گئی ہےان اوقات میں ادائیگی کےلیے سواری سے اترنا مشکل نہیں ہے، برخلاف نفلوں کے، اس لیے کہ وہ وقت مخصوصہ پر فرض نہیں ہے، اگر نفل کی ادائیگی کےلیے بھی اترنا لازم کردیا جائے تو ان کی ادائیگی مشکل ہوجائے گی، یا اس سے سفر منقطع ہوگا۔
اورمزید فرماتے ہیں:
واما فی حالۃ الضرورۃ لہ ان یصلی المکتوبۃ والوتر علی الدابۃ، لما روی: ان رسول اللہﷺکان مع اصحابہ فمطر فاقام منادیا حتی نادی صلوا علی رواحلکم۔ (2)
ترجمہ: اور حالت ضرورت میں فرض نماز اور وتر سواری پر پڑھ لے، اس لیے کہ رسول اللہﷺ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ(سفر پر) تھے، تو بارش ہوگئی آپﷺ نے مؤذن کو کھڑا کیا اس نے لوگوں کو ندا دے کر کہا: کہ نماز اپنی سواریوں پر ہی ادا کرلو۔
مذکورہ بالا عبارات سے یہ واضح ہوا کہ سواری پر نفل نماز پڑھنا ہر صورت جائز ہے، جبکہ فرض نماز سوائے عذر کے جائز نہیں ہے۔ کیسا عذر ہو کہ فرض کی ادائیگی سواری پر جائز مان لی جائے گی؟ صاحب محیط نے ہی ایسے عذر بیان کیے کہ جن کے پائے جانے کی صورت میں سواری پر ہی فرض نماز کی ادائیگی ضرورت بن جائے گی۔ بیان کرتے ہیں:
ومن الاعذار ان یخاف لو نزل عن الدابۃ علی نفسہ او علی دابتہ لصا او سبعا، او کان فی طین و ردغۃ لا یجد علی الارض مکانا یابسا، او کانت الدابۃ جموحا لو نزل عنہا لا یمکنہ الرکوب الا بمعین، او کان شیخا کبیرا لایمکنہ ان یرکب، ولا یجد من یرکبہ، ففی ھذہ الاحوال کلھا تجوز المکتوبۃ علی الدابۃ، قال اللہ تعالیٰ: "فان خفتم فرجالا او رکبانا"۔ وعلی قیاس ما ذکرنا فی اول بیان الاعذار لو صلی المکتوبۃ فی البادیۃ علی الراحلۃ، والقافلہ تسیر یجوز، لانہ یخاف علی نفسہ وثیابہ لونزل، لان القافلۃ لاتنتظرہ۔ (3)
ترجمہ: اور جو حالات عذر بن سکتے ہیں وہ یہ ہیں کہ اگر اسے اترنے کی صورت میں اپنی جان کا یا سواری کے چوری ہوجانے کا خطرہ ہویا درندے کا خطرہ ہو، یا جگہ گارے اور کیچڑ والی ہوکہ خشک جگہ نہ ملے، یا سواری سرکش ہوکہ اگر اتر جائے تو مددگار کے بغیر سوار ہونا ناممکن ہو، یا بوڑھا ہوکہ اس کےلیے سوار ہونا ناممکن ہو اور (دونوں صورتوں میں) سوار کرانے والا نہ ملے،یہ وہ احوال ہیں کہ ان تمام میں سواری پر فرض نماز جائز ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:"اگر تمہیں خوف ہوتو سوار یا پیدل(جیسے ممکن ہو نماز پڑھ لو)"۔جو ہم نے عذر کی پہلی حالت بیان کی ہے اس پر ہی یہ قیاس ہے کہ اگر دیہات کے علاقہ میں قافلہ چلا جارہا اور سواری پر ہی نماز پڑھ لیتا ہے تو جائز ہے، اس لیے کہ اسے اپنا(کہ قافلہ سے پیچھے رہ جائے گا) اور اپنے کپڑوں کا(کہ سامان وغیرہ قافلہ کے ساتھ چلا جائے گا) خوف ہے اور قافلہ اس کا انتظار بھی نہیں کرے گا(تو ایسے حالات میں سواری پر ہی فرض نماز کی ادائیگی جائز ہے)۔
یہ مسئلہ اس حوالہ سے ہے کہ گاڑی میں سفر جاری تو نماز کا وقت ہوجانے پر کیا کرے نہ کہ اڈے پر کھڑے ہوئے شخص کےلیے، گاڑی سفر کررہی ہو اور نماز کا ٹائم ہوجائے اور یہ بھی یقین ہو کہ گاڑی پہنچنے سے پہلے نماز کا وقت ختم ہوجائے گا یا نماز کا وقت کم رہ گیا اور گاڑی ابھی منزل سے دور ہے تو اس کےلیے دو ہی صورتیں یا تو گاڑی میں نماز پڑھ لے یا نماز چھوڑ دے۔ بلاعذر نماز چھوڑدینا تو جائز نہیں، بلا عذر اس لیے کہ جہاں تک پڑھنے کی صورت نکلتی ہو وہاں تک پڑھنا ہی لازمی ہے۔ صاحب محیط نے عذر بیان کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ دوبارہ سوار ہونا ناممکن ہو اور یہ بھی کہا کہ قافلہ کے چلے جانا کا خوف ہو۔ ٹرانسپورٹل بس اپنے مقررہ وقت پر روانہ ہوتی ہے اور مقررہ وقت پر اس نے پہنچنا ہوتا ہے۔ اور بعض تو وہ ہیں کہ جو نان سٹاپ ہیں ایسی صورت میں تو گاڑی سے اترنا ہی ناممکن ہے۔ اور بعض سٹاپ تو کرتی ہیں لیکن اس کے چل پڑنے کا خوف ہوتا ہے۔ ایسی صورتوں میں گاڑی پر فرض نماز کی ادئیگی بھی جائز ہوئی۔
گاڑی کی سیٹ پر بیٹھے اشارے سے ہی نماز پڑھ لے گا، مگر سجدہ میں رکوع کی نسبت سے جھکاؤ زیادہ ہو، چاہے گاڑی کا رخ جس جانب ہی ہو۔اس مسئلہ کےلیے بھی المحیط کو مندرجہ بالا حوالہ سے مطالعہ کرلیاجائے۔ لیکن جب گاڑی مقررہ وقت کا سٹاپ کرتی ہے تو اس دوران اگر نماز پڑھی جاسکتی ہے تو اتر کر نماز پڑھنا ضروری ہے۔
ضروری وضاحت۱:
جب یہ کہا جاتا ہے کہ بس، ٹرین یا جہاز وغیرہ میں نماز کی ادائیگی جائز
ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر فرض نماز کا وقت داخل ہوتا ہے تو پڑھنا صرف جائز ہے کہ پڑھے یا نہ پڑھے دونوں برابر ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں نماز کی ادائیگی درست ہے۔ کہ ان میں پڑھی ہوئی نماز مقبول ہوگی۔ کہ جیسے مسجد کے علاوہ گھر، دوکان یا کسی اور مقام پر پڑھنا جائز ہوتا ہے ایسے ہی ان میں جائز ہے۔ کہ نماز پڑھنا تو فرض ہی ہے یہ جواز کا فتویٰ درجۂ حکم کےلیے نہیں بلکہ مقام کےلیے ہے۔ اور ایسے ہی اگر جیل میں ہے اور نماز کا وقت ہوگیا تو جیل میں پڑھنا درست ہے کہ وہاں پڑھی ہوئی نماز مقبول ہے۔ لیکن وہاں سے نکل نہیں سکتا تو اس کےلیے وہاں پڑھنا ہی فرض ہے کہ اگر وہاں نہیں پڑھتا اور مسجد جانے کے بہانے وقت گزار دیتا ہے تو گناہگار ہوگا۔ ایسے ہی گھر میں ہے تو گھر میں فرض ہے، دکان، مارکیٹ، کھیت، سفر جہاں بھی ہو وہاں فرض ہے۔ تو ایسے ہی گاڑی، کشتی اور جہاز میں نماز تو فرض ہی ہے کہ اگر نماز نہیں پڑھتا تو گناہگار ہے۔ کہ جیسے اگر کوئی چھت یا تخت پر بیٹھا تو اس کےلیے چھت اور تخت پر ہی نماز پڑھنا جائز ہے۔ اب جواز کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اگر تخت یا چھت پر ہی بیٹھا رہا اور نماز کا وقت گزر گیا مگر ا س نے نماز نہ پڑھی تو گناہگار نہیں کہ اس نے تو صرف جائز کام چھوڑا ہے۔ بلکہ گناہگار ہے فرض چھوڑنے پر اور جواز تو اس کی نماز کی صحت کا تھا۔
نتیجہ یہ ہے کہ جہاں بھی ہو اور وہاں نماز پڑھنا درست اور جائز بھی ہو تو اس کےلیے وہاں نماز فرض ہے۔
ضروری وضاحت۲:
یہاں پر ایک وضاحت ضروری ہے کہ بس، ٹرین، کشتی وغیرہ میں
نماز پڑھنے کی جو بحث کی گئی ہے۔ اس میں جہاں پر ضرورت اور مجبوری ومشکل کو بناء بنایا جاتا وہ فرض نمازوں میں ہے، کسی ذہن میں یہ خیال نہ آئے کہ مجبوری اور تنگی وغیرہ صورتوں میں تو صرف نفلی نماز کی اجازت ہے۔کیونکہ نفل نماز تو بغیر تنگی اور مجبوری کے پڑھنا بھی جائز ہے، چاہے کھڑے ہو کر یا بیٹھ، اشارے سے یا رکوع وسجدہ سے، ہر صورت جائز ہے۔ جب ایسا ہے تو ضرورت، مجبوری اور تنگی یانقصان اور خوف وخطر وغیرہ کی قیود نفل کےلیے نہیں ہیں۔
فتویٰ
کیا ٹرانسپورٹ کی بس میں نماز پڑھنا جائز ہے؟
نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1۔ ابن مازۃ، المحیط البرھانی، کتاب الصلوۃ، الفصل الثالث والعشرون فی الصلوۃ علی الدابۃ،ج:2 ،ص: 426
2۔ ابن مازۃ، المحیط البرھانی، کتاب الصلوۃ، الفصل الثالث والعشرون فی الصلوۃ علی الدابۃ،ج:2 ،ص: 426
3۔ ابن مازۃ، المحیط البرھانی، کتاب الصلوۃ، الفصل الثالث والعشرون فی الصلوۃ علی الدابۃ،ج:2 ،ص: 426
2۔ ابن مازۃ، المحیط البرھانی، کتاب الصلوۃ، الفصل الثالث والعشرون فی الصلوۃ علی الدابۃ،ج:2 ،ص: 426
3۔ ابن مازۃ، المحیط البرھانی، کتاب الصلوۃ، الفصل الثالث والعشرون فی الصلوۃ علی الدابۃ،ج:2 ،ص: 426
اصل سوال
کیا ٹرانسپورٹ کی بس میں نماز پڑھنا جائز ہے؟