واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا یورینل (مریضوں کے لیے قضاءِ حاجت کا برتن) استعمال کرنا جائز ہے؟

عمومی کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-24 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: عمومی مشاہدات: 2

سوال

کیا یورینل (مریضوں کے لیے قضاءِ حاجت کا برتن) استعمال کرنا جائز ہے؟

جواب

یورینل ایسا ظرف ہے جو کہ مریضوں کے استعمال کےلیے ہوتا ہے کہ جو مریض چل کر واش روم تک نہیں جاسکتے یا وہاں بیٹھنا ان کےلیے مشکل ہے، یا ایسی کسی بھی مجبوری کی بناء پر یورینل کا استعمال کرایا جاتا ہے۔ یہ ایک برتن سا ہوتا ہے جو کہ عام طور پر واش رومز میں لگے ہوئے ٹوائلٹس کی شکل کا ہوتا ہے، جسے اٹھا کر مریض کے نیچے رکھ دیا جاتا ہے اور اس میں قضاء حاجت کرلیتا ہے یا خصوصاً بول کےلیے بوتل نما ظرف بنایا جاتا ہے اور اسے مرد حضرات استعمال کرسکتے ہیں۔
ان کا استعمال مجبوری کی بناء پر کیا جاتا ہے اور مجبوری کی حالت میں شریعت اجازت دیتی ہے۔ اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:
لااکراہ فی الدین۔ (1)
ترجمہ: دین میں سختی نہیں ہے۔
اور فرمایا:
لایکلف اللہ نفسا الا وسعھا۔ (2)
ترجمہ: اللہ کسی بھی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔
جب اسلام اتنی نرمی دیتا ہے تو مریضوں کےلیے اس کا استعمال بلا کراہت جائز ہے۔ اور اگر کوئی ٹھیک شخص اس کا استعمال کرتا ہے تو اس کےلیے بھی اس میں عدام جواز کی کوئی وجہ تو نہیں ہے کہ جب تلویث اور بے پردگی کا خدشہ نہ ہو۔
حوالہ جات:

مزید فتاویٰ جات

سڑک پر کھڑے پانی کے چھینٹوں سے کیا کپڑے نا پاک ہو جائیں گے؟ سیوریج والے پانی کو فلٹریشن کرنے کے بعد کیا وہ پاک ہو جائے گا؟ کھڑے ہوئے پانی کا کیا حکم ہے؟ وضو کےلیے مساجد میں بنے حوض سے وضو کے احکام اگرحوض کا پانی ماء مستعمل ہوجائےتو کیا اسے ماء مطلق بنایا جاسکتاہے؟