واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا استنجاء کے لیے ویسٹرن کموڈ (سیٹ نما ٹائلٹ) کا استعمال جائز ہے؟

عمومی کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-24 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: عمومی مشاہدات: 1

سوال

کیا استنجاء کے لیے ویسٹرن کموڈ (سیٹ نما ٹائلٹ) کا استعمال جائز ہے؟

جواب

اس دور میں یورپین ممالک میں نئے طرز کے ٹوائلٹ بنائے گئے ہیں جو کہ سیٹ نما ہوتے ہیں اور ان پر بیٹھ کر قضاء حاجت کی جاتی ہے۔ اور اب یہ پاکستان اور اسلامی ممالک میں بھی کثرت سے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اوریہ خصوصاً معذور، بوڑھے اور کمزور افراد کےلیے مفید ہوتے ہیں۔ ایسے ٹوائلٹ کا استعمال کرنا کیسا ہے؟ اس کے جواب سے پہلے مختصر وضاحت پیش خدمت ہے۔ کہ ان کے استعمال پر جو اعتراض ہے وہ یہ ہے کہ کموڈ پر قضاء حاجت کے دوران نجاست کے چھینٹوں سے بچنا ناممکن یا مشکل ہوتا ہے۔ اور یہ وہ مسئلہ ہے کہ جس کے بارے رسول اللہﷺ نے فرمایا: کہ میں نے قبر میں ایک بندے کو پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنے کی وجہ سے عذاب میں مبتلاء دیکھا ہے۔ (1)
وگرنہ اس کے علاوہ کوئی دوسری وجہ نہیں جس بناء پر اسے ناجائز قرار دیا جائے یا کسی نے ناجائز قرار دیا ہو۔ یا یہ کہا جاتا ہے کہ یہ عمل سنت کے خلاف ہے۔ تو اس حوالہ سے عرض یہ ہے کہ واقعی یہ کموڈ سنت کے مطابق نہیں تو جس ٹائلٹ کا استعمال عام طور پر مشرقی ممالک اور اسلامی ممالک میں کیا جاتا ہے وہ بھی سنت تو نہیں ہے۔ زمانہ اولیٰ میں شہر اتنے وسیع نہیں تھے جتنے اس دور میں کہ اس وقت میں لوگ آبادی سے باہر نکل سکتے تھے۔ اور معذور، کمزور یا بوڑھے افراد بھی ایسی جگہ تلاش کر سکتے تھے جہاں وہ بی؂تھ کر، کھڑے ہوکر یا کسی آسان طریقہ سے قضاء حاجت کرسکیں اور پردہ بھی رہے۔ یہ وہ دور ہے کہ جس میں آبادی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ان ٹوائلٹس کے بغیر پردے کی جگہ کا ملنا انتہائی مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوتا جارہا ہے خصوصاً خواتین کےلیے۔ تو ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر گھر میں ہی قضاء حاجت کے رومز بنادیے جائیں جس میں عام اور معذور، بوڑھوں اور بیماروں کے لیے بھی سہولیات موجود ہوں۔ اس لیے یہ ویسٹرن کموڈ بوڑھوں، مریضوں اور معذوروں کےلیے تو بالکل درست اور مناسب ہے کیونکہ ان افراد کےلیے اس کے علاوہ دوسرے پر تلویث کا خدشہ زیادہ ہے۔
اور ان مخصوص افراد کےعلاوہ درست اور طاقتور افراد بھی اس کا استعمال کرتے ہیں۔ اس پر بیٹھنے کےلیے تہبند کو مکمل اتاردینا ہوتا ہے جس سے ضرورت سے زائد کشف عورت ہوتا ہے۔ اس بناء پر اور اگر نجاست سے تلویث کے خدشات ہوں تو ان افراد کےلیے اس کا استعمال مکروہ ہوگا۔ لیکن تلویث کا خطرہ سب کےلیے نہیں جو لوگ اس کا استعمال مسلسل کرتے ہیں وہ اس کے استعمال کا محفوظ طریقہ بھی بتاتے ہیں جس سے تلویث کا خطرہ ٹل جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جسے استعمال کرنا آتا ہے تو وہ بول کے قطرات سے بچ کر عذاب قبر سے محفوظ رہے گا اور اس کےلیے قباحت نہیں اور جسے استعمال کرنا نہیں آتا وہ اس کے استعمال سے پرہیز کرے تاکہ عذاب قبر سے بچ سکے۔ جسے رسول اللہﷺ نے قبر میں بول کے قطرات کی وجہ سے عذاب میں مبتلاء دیکھا تھا وہ تو زمیں پر قضاء حاجت کرتا تھا اب اگر کوئی زمین پر بول سے نہیں بچتا یا کموڈ پر نہیں بچتا وہ ویسٹرن ہو یا ایسٹرن ہو تو اس میں وعید تو عدم پرہیز پر ہے نہ کہ اس کموڈ کے استعمال پر۔
کشفِ عورت کو فقہاء نے فسق قراردیا ہےعلامہ مرغینانی مختارات النوازل میں فرماتے ہیں:
وکشف العورۃ من غیر ضرورۃ یوجب الفسق۔ (2)
ترجمہ: اور بغیر ضرورت کے شرمگاہ کا کھولنا فسق ہے۔
جس وجہ سے اس کے جواز میں نفی کی طرف حکم کا جھکاؤ بڑھے گا۔ مگر یہ بھی کھلی فضاء کےلیے اور جہاں دوسروں کے دیکھنے کا خدشہ ہو جبکہ یہاں پر یہ صورت نہیں ہوتی۔ لیکن اگر پردے میں بھی کشفِ عورت کو فسق ہی قرار دیا جائے گا تو اس وجہ سے جواز میں کراہت ضرور آجائے گی۔ یہ بھی اس کےلیے جو خود ایسے علاقہ میں بنوائے گا لیکن اگر کوئی شخص کسی علاقہ میں جاتا ہے اور وہاں پر ان کا استعمال ہے اور اس کے علاوہ اسے میسر نہ ہو تو اس کےلیے کراہت کی بھی کوئی وجہ نہیں کیونکہ وہ مجبور ہے۔
حوالہ جات:

2۔ المرغینانی، مختارات النوازل، کتاب الطھارۃ، فصل فی الاستنجاء، ج:1،ص:195

مزید فتاویٰ جات

سڑک پر کھڑے پانی کے چھینٹوں سے کیا کپڑے نا پاک ہو جائیں گے؟ سیوریج والے پانی کو فلٹریشن کرنے کے بعد کیا وہ پاک ہو جائے گا؟ کھڑے ہوئے پانی کا کیا حکم ہے؟ وضو کےلیے مساجد میں بنے حوض سے وضو کے احکام اگرحوض کا پانی ماء مستعمل ہوجائےتو کیا اسے ماء مطلق بنایا جاسکتاہے؟