العادۃ محکمۃ۔ (1)
ترجمہ: جو لوگوں میں عادۃً رائج ہو تو وہ ثابت اور معتبر ہے۔
اس قاعدہ کی اصل حضور نبی کریمﷺ کا فرمان(یا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول)ہے:
ما رآہ المسلمون حسنا فھو عنداللہ حسن۔ (2)
ترجمہ: جسے مسلمان اچھا، بھلائی والا یا درست سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا اور درست ہی ہے۔
یعنی جو کام مسلمانوں میں عام رائج ہو تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کام ان کے ہاں مقبول ہے۔ مسلمانوں سے مراد سلیم الطبع افراد کے ہاں جو عمل مقبول ہو شریعت میں معتبر ہوگا۔ یعنی شریعت میں اگر کوئی اس کے متعلقہ فتویٰ ہوگا تو اس عادت کی رعایت کرتے ہوئے فتویٰ دیا جائے گا۔
فتویٰ
کیا شرعی مسائل میں عادت اور عرف کا اعتبار کیا جاتا ہے؟ العادۃ محکمۃ۔
فقہ کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1۔ المادة 36 من مجلة الأحكام العدلية "العادة محكمة"
2۔ ابن نجیم، الاشباہ والنظائر ، الفن الاول القواعد الکلیۃ ، القاعدۃ السادسۃ ، ص : 101
2۔ ابن نجیم، الاشباہ والنظائر ، الفن الاول القواعد الکلیۃ ، القاعدۃ السادسۃ ، ص : 101
اصل سوال
کیا شرعی مسائل میں عادت اور عرف کا اعتبار کیا جاتا ہے؟ العادۃ محکمۃ۔