واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا شرعی مسائل میں عادت اور عرف کا اعتبار کیا جاتا ہے؟ العادۃ محکمۃ۔

فقہ کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-29 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: فقہ مشاہدات: 1

جواب

العادۃ محکمۃ۔ (1)
ترجمہ: جو لوگوں میں عادۃً رائج ہو تو وہ ثابت اور معتبر ہے۔
اس قاعدہ کی اصل حضور نبی کریمﷺ کا فرمان(یا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول)ہے:
ما رآہ المسلمون حسنا فھو عنداللہ حسن۔ (2)
ترجمہ: جسے مسلمان اچھا، بھلائی والا یا درست سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا اور درست ہی ہے۔
یعنی جو کام مسلمانوں میں عام رائج ہو تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کام ان کے ہاں مقبول ہے۔ مسلمانوں سے مراد سلیم الطبع افراد کے ہاں جو عمل مقبول ہو شریعت میں معتبر ہوگا۔ یعنی شریعت میں اگر کوئی اس کے متعلقہ فتویٰ ہوگا تو اس عادت کی رعایت کرتے ہوئے فتویٰ دیا جائے گا۔

حوالہ

1۔ المادة 36 من مجلة الأحكام العدلية "العادة محكمة"
2۔ ابن نجیم، الاشباہ والنظائر ، الفن الاول القواعد الکلیۃ ، القاعدۃ السادسۃ ، ص : 101

اصل سوال

کیا شرعی مسائل میں عادت اور عرف کا اعتبار کیا جاتا ہے؟ العادۃ محکمۃ۔

مزید فتاویٰ جات

کیا تابع چیز کا حکم بھی اصل چیز کے حکم کے مطابق ہوگا؟ التابع تابع۔ کیا اعمال کے احکام کا اعتبار نیت اور مقصد کے مطابق کیا جائے گا؟ الامور بمقاصدھا۔ کیا نیت کے بغیر کسی عمل پر ثواب حاصل ہوگا؟ لاثواب الا بالنیۃ۔ کیا غالب رائے (قوی گمان) کو یقین کے قائم مقام سمجھا جائے گا؟ غالب الرایٔ بمنزلۃ الیقین۔ کیا سبب کے بار بار پیدا ہونے سے اس کا حکم بھی بار بار لازم ہوگا؟ ان تکرار السبب یدل علی...