واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا عادت کے طور پر ثابت شدہ چیز کو یقینی چیز کے حکم میں شمار کیا جائے گا؟ الثابت عادۃ کالمتیقن بہ۔

فقہ کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-29 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: فقہ مشاہدات: 1

جواب

الثابت عادۃ کالمتیقن بہ۔ (1)
ترجمہ: عادت (رواج،فطرت) سے ثابت شدہ ایسے ہے جیسے یقینی ہو۔
جو عام طور پرلوگوں کے ہاں رائج ہو اسے یقین کی حد تک تسلیم کیا جائے گا۔ اور اسی طرح جو فطری طور پر انسان کی معذوری یا مجبوری ہو اسے بھی یقینی تصور کیا جائے گا۔ جیسا کہ سونے والے کے وضو کا ٹوٹ جانا اس وجہ سے ہے کہ سونے سے اعضاء بدن فطرتاً ڈھیلے ہوتے ہیں جس سے استرخاء یعنی خروج ہوا کا ظن غالب ہے۔ تو اس میں عادت کو بنیاد بناتے ہوئے یقین کے درجہ پر پہچاکر حکم نافذ کردیا جاتا ہے۔ اس میں ظن غالب بھی مؤثر ہوتا ہے۔ صاحب فتح القدیر فرماتے ہیں:
ادیر الحکم علی ما ینتھض مظنۃ لہ۔ (2)
ترجمہ: جس طرف گمان غالب ہو اس پر حکم لگایا جائے گا۔

حوالہ

1۔ المرغینانی ، ہدایۃ ، کتاب الطھارۃ ، نواقض الوضوء ، ص : 26
2۔ کمال الدین محمد بن عبدالواحد السکندری المعروف ابن ہمام الحنفی، تاریخ پیدائش: ، تاریخ وفات:861ھ ۔فتح القدیر، کتاب الطھارۃ، نواقض الوضوء، ج:1،ص: 49

اصل سوال

کیا عادت کے طور پر ثابت شدہ چیز کو یقینی چیز کے حکم میں شمار کیا جائے گا؟ الثابت عادۃ کالمتیقن بہ۔

مزید فتاویٰ جات

کیا تابع چیز کا حکم بھی اصل چیز کے حکم کے مطابق ہوگا؟ التابع تابع۔ کیا اعمال کے احکام کا اعتبار نیت اور مقصد کے مطابق کیا جائے گا؟ الامور بمقاصدھا۔ کیا سبب کے بار بار پیدا ہونے سے اس کا حکم بھی بار بار لازم ہوگا؟ ان تکرار السبب یدل علی... کیا نیت کے بغیر کسی عمل پر ثواب حاصل ہوگا؟ لاثواب الا بالنیۃ۔ کیا شرعی مسائل میں عادت اور عرف کا اعتبار کیا جاتا ہے؟ العادۃ محکمۃ۔