الثابت عادۃ کالمتیقن بہ۔ (1)
ترجمہ: عادت (رواج،فطرت) سے ثابت شدہ ایسے ہے جیسے یقینی ہو۔
جو عام طور پرلوگوں کے ہاں رائج ہو اسے یقین کی حد تک تسلیم کیا جائے گا۔ اور اسی طرح جو فطری طور پر انسان کی معذوری یا مجبوری ہو اسے بھی یقینی تصور کیا جائے گا۔ جیسا کہ سونے والے کے وضو کا ٹوٹ جانا اس وجہ سے ہے کہ سونے سے اعضاء بدن فطرتاً ڈھیلے ہوتے ہیں جس سے استرخاء یعنی خروج ہوا کا ظن غالب ہے۔ تو اس میں عادت کو بنیاد بناتے ہوئے یقین کے درجہ پر پہچاکر حکم نافذ کردیا جاتا ہے۔ اس میں ظن غالب بھی مؤثر ہوتا ہے۔ صاحب فتح القدیر فرماتے ہیں:
ادیر الحکم علی ما ینتھض مظنۃ لہ۔ (2)
ترجمہ: جس طرف گمان غالب ہو اس پر حکم لگایا جائے گا۔
فتویٰ
کیا عادت کے طور پر ثابت شدہ چیز کو یقینی چیز کے حکم میں شمار کیا جائے گا؟ الثابت عادۃ کالمتیقن بہ۔
فقہ کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1۔ المرغینانی ، ہدایۃ ، کتاب الطھارۃ ، نواقض الوضوء ، ص : 26
2۔ کمال الدین محمد بن عبدالواحد السکندری المعروف ابن ہمام الحنفی، تاریخ پیدائش: ، تاریخ وفات:861ھ ۔فتح القدیر، کتاب الطھارۃ، نواقض الوضوء، ج:1،ص: 49
2۔ کمال الدین محمد بن عبدالواحد السکندری المعروف ابن ہمام الحنفی، تاریخ پیدائش: ، تاریخ وفات:861ھ ۔فتح القدیر، کتاب الطھارۃ، نواقض الوضوء، ج:1،ص: 49
اصل سوال
کیا عادت کے طور پر ثابت شدہ چیز کو یقینی چیز کے حکم میں شمار کیا جائے گا؟ الثابت عادۃ کالمتیقن بہ۔