واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا اعمال کے احکام کا اعتبار نیت اور مقصد کے مطابق کیا جائے گا؟ الامور بمقاصدھا۔

فقہ کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-29 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: فقہ مشاہدات: 1

جواب

الامور بمقاصدھا۔ (1)
ترجمہ: تمام امور(کے احکام) ان کے مقاصد کے مطابق ہیں۔
اس قاعدہ میں دو باتیں ہیں:
۱۔ جو شرعی جس امر کےلیے متعین ہو اس کا استعمال بھی فقط اسی مقصد کےلیے جائز اورمشروع ہوگا اس کے علاوہ نہیں۔ جیسے مسجد کا قیام غرضِ عبادت سے ہے لہٰذا مسجد میں دنیاوی امور سے منع کردیا گیا ہے۔
۲۔ بندہ جو کام کرے گا اس کے اس عمل پر حکم لاگو کرنے سے پہلے دیکھا جائے کہ کس مقصد کے تحت یہ عمل کیا گیا۔ مقصد نیک ہے تو عمل مقبول ہوگا اوراگر مقصد بد ہے تو عمل مردود ہوگا۔

حوالہ

1 ۔ ابن نجیم، الاشباہ، الفن الاول فی القواعد، القاعدۃ الثانیۃ، ص:22

اصل سوال

کیا اعمال کے احکام کا اعتبار نیت اور مقصد کے مطابق کیا جائے گا؟ الامور بمقاصدھا۔

مزید فتاویٰ جات

کیا غالب رائے (قوی گمان) کو یقین کے قائم مقام سمجھا جائے گا؟ غالب الرایٔ بمنزلۃ الیقین۔ کیا تابع چیز کا حکم بھی اصل چیز کے حکم کے مطابق ہوگا؟ التابع تابع۔ کیا سبب کے بار بار پیدا ہونے سے اس کا حکم بھی بار بار لازم ہوگا؟ ان تکرار السبب یدل علی... کیا نیت کے بغیر کسی عمل پر ثواب حاصل ہوگا؟ لاثواب الا بالنیۃ۔ کیا شرعی مسائل میں عادت اور عرف کا اعتبار کیا جاتا ہے؟ العادۃ محکمۃ۔