الامور بمقاصدھا۔ (1)
ترجمہ: تمام امور(کے احکام) ان کے مقاصد کے مطابق ہیں۔
اس قاعدہ میں دو باتیں ہیں:
۱۔ جو شرعی جس امر کےلیے متعین ہو اس کا استعمال بھی فقط اسی مقصد کےلیے جائز اورمشروع ہوگا اس کے علاوہ نہیں۔ جیسے مسجد کا قیام غرضِ عبادت سے ہے لہٰذا مسجد میں دنیاوی امور سے منع کردیا گیا ہے۔
۲۔ بندہ جو کام کرے گا اس کے اس عمل پر حکم لاگو کرنے سے پہلے دیکھا جائے کہ کس مقصد کے تحت یہ عمل کیا گیا۔ مقصد نیک ہے تو عمل مقبول ہوگا اوراگر مقصد بد ہے تو عمل مردود ہوگا۔
فتویٰ
کیا اعمال کے احکام کا اعتبار نیت اور مقصد کے مطابق کیا جائے گا؟ الامور بمقاصدھا۔
فقہ کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1 ۔ ابن نجیم، الاشباہ، الفن الاول فی القواعد، القاعدۃ الثانیۃ، ص:22
اصل سوال
کیا اعمال کے احکام کا اعتبار نیت اور مقصد کے مطابق کیا جائے گا؟ الامور بمقاصدھا۔