لاثواب الا بالنیۃ۔ (1)
ترجمہ: ثواب (ثواب کی) نیت کے ساتھ(مخصوص) ہے (یعنی یہ نیت ہوگی تو ثواب ملے گا ورنہ نہیں)۔
اس قاعدہ کی بنیاد یہ حدیث پاک ہے:
انما الاعمال بالنیات۔(2)
ترجمہ: اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔
فقہاء نے اس حدیث کو اجر پر محمول کیا ہے۔ جس سے قاعدہ اخذ کیا کہ نیک کام نیکی کی نیت کے بغیر باعث اجر نہیں ہے۔ اصل تو یہ حدیث ہی ہے اس سے قاعدہ اخذ کرنا اس لیے ہے کہ اخروی اجر کے ساتھ دنیاوی امور، جو دین سے تعلق رکھتے ہیں، ان کو اس حدیث کے ذیل میں پرکھا جاسکا۔
فتویٰ
کیا نیت کے بغیر کسی عمل پر ثواب حاصل ہوگا؟ لاثواب الا بالنیۃ۔
فقہ کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1۔ ابن نجیم، الاشباہ والنظائر، الفن الاول فی القواعد، القاعدۃ الاولیٰ،ص:14
2۔ بخاری، الصحیح، کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی، رقم الحدیث:01
2۔ بخاری، الصحیح، کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی، رقم الحدیث:01
اصل سوال
کیا نیت کے بغیر کسی عمل پر ثواب حاصل ہوگا؟ لاثواب الا بالنیۃ۔