واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا نیت کے بغیر کسی عمل پر ثواب حاصل ہوگا؟ لاثواب الا بالنیۃ۔

فقہ کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-29 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: فقہ مشاہدات: 1

جواب

لاثواب الا بالنیۃ۔ (1)
ترجمہ: ثواب (ثواب کی) نیت کے ساتھ(مخصوص) ہے (یعنی یہ نیت ہوگی تو ثواب ملے گا ورنہ نہیں)۔
اس قاعدہ کی بنیاد یہ حدیث پاک ہے:
انما الاعمال بالنیات۔(2)
ترجمہ: اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔
فقہاء نے اس حدیث کو اجر پر محمول کیا ہے۔ جس سے قاعدہ اخذ کیا کہ نیک کام نیکی کی نیت کے بغیر باعث اجر نہیں ہے۔ اصل تو یہ حدیث ہی ہے اس سے قاعدہ اخذ کرنا اس لیے ہے کہ اخروی اجر کے ساتھ دنیاوی امور، جو دین سے تعلق رکھتے ہیں، ان کو اس حدیث کے ذیل میں پرکھا جاسکا۔

حوالہ

1۔ ابن نجیم، الاشباہ والنظائر، الفن الاول فی القواعد، القاعدۃ الاولیٰ،ص:14
2۔ بخاری، الصحیح، کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی، رقم الحدیث:01

اصل سوال

کیا نیت کے بغیر کسی عمل پر ثواب حاصل ہوگا؟ لاثواب الا بالنیۃ۔

مزید فتاویٰ جات

کیا تابع چیز کا حکم بھی اصل چیز کے حکم کے مطابق ہوگا؟ التابع تابع۔ کیا اعمال کے احکام کا اعتبار نیت اور مقصد کے مطابق کیا جائے گا؟ الامور بمقاصدھا۔ کیا غالب رائے (قوی گمان) کو یقین کے قائم مقام سمجھا جائے گا؟ غالب الرایٔ بمنزلۃ الیقین۔ کیا سبب کے بار بار پیدا ہونے سے اس کا حکم بھی بار بار لازم ہوگا؟ ان تکرار السبب یدل علی... کیا شرعی مسائل میں عادت اور عرف کا اعتبار کیا جاتا ہے؟ العادۃ محکمۃ۔